حضرت مسیح موعود کی عائلی زندگی کے متعلق مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب مرحوم ابن حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ کے مضامین الفضل انٹرنیشنل ماہ جنوری و فروری 2011ء میں شائع ہوتے رہے ہیں جنہیں قارئین کے استفادہ کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ (بشکریہ الفضل انٹرنیشنل)

ہر زمانہ کے اپنے رسم و رواج ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود کے زمانے میں غیرلوگوں کے سامنے میاں بیوی کا ایک دوسرے سے بات کرنا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح یہ تو بہت ہی برا سمجھا جاتا کہ خاوند اور بیوی اکٹھے غیروں کے سامنے چلیں پھریں۔ عام طور پر دستور یہ تھا کہ پبلک جگہوں پر عورتوں کو ایک طرف بٹھا دیا جاتا تھا۔ لیکن اس زمانے میں بھی حضرت مسیح موعود کا طریق بالکل مختلف تھا۔ چنانچہ سیرت المہدی جلددوم روایت 435 میں ذکر ہے کہ 1902ء میں ایک مرتبہ حضرت اماں جان ؓلاہور تشریف لے گئی تھیں۔ ان کی واپسی کی اطلاع ملنے پر حضورؑ ان کے استقبال کے لئے بٹالہ تشریف لے گئے۔ معمول کے مطابق بہت سے خدام بھی ساتھ تھے۔ بٹالہ کے سٹیشن پر سب لوگوں کے سامنے ہی حضورؑ نے اماں جانؓ کا استقبال کیا اور آپ سے مصافحہ فرمایا۔
حضرت مسیح موعود کے سفروں کے سلسلہ میں حضرت مفتی محمدصادق صاحبؓ نے اپنی تصنیف ‘‘ذکرحبیب’’ میں تذکرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سفر کا موقعہ پیش آتا تو حضور کا طریق یہ تھا کہ خود ساتھ جا کر حضرت اماں جانؓ اور جو مستورات ساتھ ہوتیں انہیں زنانہ ڈبے میں سوار کراتے۔ اور جس سٹیشن پر اُترنا ہوتا خود زنانہ ڈبہ کے پاس جاکر اپنے سامنے حضرت اماں جانؓ کو اُترواتے اور دوران سفر بھی اپنے ہمراہی خدام کے ذریعہ حضرت امّاں جانؓ کا حال احوال پتہ کرتے رہتے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ مزید لکھتے ہیں کہ آخری سالوں میں حضور عموماً سیکنڈکلاس کا ایک ڈبہ ریزرو کروا لیا کرتے تھے اور حضرت اماں جانؓ اور بچوں کے ساتھ اس میں سفر فرمایا کرتے تھے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ حضور الگ کمرے کواس خیال سے ریزرو کروا لیتے تھے تاکہ حضرت والدہ صاحبہ کو علیحدہ کمرے میں تکلیف نہ ہو اور حضور اپنے اہل و عیال کے ساتھ اطمینان کے ساتھ سفر کر سکیں۔ اور نیز اس لئے بھی کہ آخری سالوں میں عموماً سفروں کے موقعہ پر ہر سٹیشن پر سینکڑوں ہزاروں زائرین بھی حضور کی زیارت کے لئے پہنچ جاتے تھے اور ان میں موافق و مخالف ہر قسم کے لوگ ہوتے تھے۔
(ذکرحبیب صفحہ 318)
ایک سفر کے تعلق میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل نے بھی بیان فرمایا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں: ‘‘ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ کسی سفر میں تھے۔ سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ (یعنی حضرت اُم المومنینؓ) کے ساتھ سٹیشن پر ٹہلنے لگ گئے۔ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی۔ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیرلوگ اِدھراُدھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ مَیں نے کہا مَیں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں۔ بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا ‘‘جائوجی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں’’۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے۔ مَیں نے کہا مولوی صاحب جواب لے آئے’’۔ (سیرت المہدی)
ایک روایت میں آتا ہے کہ حضورؑ نے مولوی عبدالکریم صاحبؓ کی بات سن کر فرمایا کہ آخر لوگ کیا کہیں گے یہی نا کہ مرزا اپنی بیوی کے ساتھ پھر رہا ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں جماعت اور خاص طور پر خواتین میں اس بات کا عام چرچا تھا کہ حضرت اماں جان کے ساتھ حضور کا سلوک زمانہ اور ماحول کے برعکس غیرمعمولی اور نمایاں طور پر اچھا ہوتا تھا اور یہ بات اتنی معروف تھی کہ صرف قادیان کے رہنے والے یا کثرت سے آنے والے ہی ایسا نہ سمجھتے تھے بلکہ جو مہمان ایک بار بھی آتا تھا اس کو بھی اس کا احساس ہوجاتا تھا۔ چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ 1897ء کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ آپ اس زمانہ میں لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک بار لاہور کے ایک معزز خاندان کے لوگ قادیان گئے۔ ان میں خواتین بھی تھیں۔ واپسی پر ایک بوڑھی خاتون نے ایک مجلس میں حضرت مسیح موعودؓ کے بارہ میں بیان کیا کہ آپ حضرت اماں جانؓ کی کس قدر خاطر اور خدمت کرتے ہیں۔ اس مجلس میں ایک پرانی طرز کے صوفی بزرگ بھی موجود تھے۔ وہ اس معزز خاتون کی بات سن کر کہنے لگے۔ ہر سالک کا ایک مجازی محبوب بھی ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مرزاصاحب کا محبوبِ مجازی ان کی بیوی ہیں۔ اُن صوفی بزرگ کا خیال اپنی جگہ۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ حضر ت اماں جانؓ کے ساتھ سلوک اور آپ کی قدر اور آپ کا احترام اس لئے خصوصی طورپر فرماتے تھے کہ یہ انبیاء اور خاص طور پر آنحضرتﷺ کی سنّت تھی۔ چنانچہ اپنے ایک تعزیتی خط میں جو حضور نے حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کو ان کی پہلی بیگم کی وفات پر لکھا تھا اس میں تحریر فرمایا:
‘‘میاں بیوی کا علاقہ ایک الگ علاقہ ہے جس کے درمیان اَسرار ہوتے ہیں۔ بیوی میاں ایک ہی بدن اور ایک ہی وجود ہو جاتے ہیں۔ ان کوصدہا مرتبہ اتفاق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جگہ سوتے ہیں وہ ایک دوسرے کا عضو ہو جاتے ہیں۔ بسااوقات ان میں ایک عشق کی سی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس محبت اور باہم اُنس پکڑنے کے زمانہ کو یاد کر کے کون دل ہے جوپُرآب نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ تعلق ہے جو چند ہفتہ باہر رہ کرآخر فی الفور یاد آتا ہے۔ ایسے تعلق کا خدا نے باربار ذکر کیاکہ باہم محبت اور اُنس پکڑنے کا یہی تعلق ہے۔ بسااوقات اس تعلق کی برکت سے دنیوی تلخیاں فراموش ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ انبیاء بھی اس تعلق کے محتاج تھے۔ جب سرورِکائنات بہت ہی غمگین ہوتے تھے تو حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے کہ اَرِحْنَا یَا عَائشَۃ۔ یعنی اےعائشہ ہمیں خوش کر کہ ہم اس وقت غمگین ہیں۔ اس سے ثابت ہے کہ اپنی پیاری بیوی، یارموافق، رئیس عزیز ہے جو اولاد کی ہمدردی میں شریک غالب اور غم کو دور کرنے والی اورخانہ داری کے معاملات کی متولّی ہوتی ہے جب وہ یک دفعہ دنیا سے گزر جاوے تو کیسا صدمہ ہے اور کیسی تنہائی کی تاریکی چاروں طرف نظر آتی اور گھر ڈرائونا معلوم ہوتا ہے’’۔ (الحکم جلد 7 شمارہ نمبر 36۔ 3؍ستمبر1903ء)
اسی طرح حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحبؓ کے نام اپنے خط میں تحریر فرماتے ہیں: ‘‘نہایت نیک قسمت اور سعید وہ آدمی ہے کہ جس کو اہلیہ صالحہ محبوبہ میسر آجائے کہ اس سے تقویٰ طہارت کا استحکام ہوتا ہے اور ایک بزرگ حصہ دین اور دیانت کا مفت میں مل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تقریباً تمام نبیوں اور رسولوں کی توجہ اسی بات کی طرف لگی رہی ہے کہ انہیں جمیلہ، حسینہ صالحہ بیوی میسر آوے جس سے گویا انہیں ایک قسم کا عشق ہو۔ ہمارے نبیﷺ کو حضرت عائشہؓ سے محبت کا ایک مشہور واقعہ ہے اور لکھا ہے کہ اسلام میں پہلے وہی محبت ظہور میں آئی۔ سو مَیں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ سب سے پہلے اللہ جلشانہ آپ کو یہ نعمت عطا کرے۔ میرے نزدیک یہ نعمت اکثر نعمتوں کی اصل الاصول ہے اور چونکہ مومن اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کا طالب و جویاں بلکہ عاشق و حریص ہوتا ہے اس لئے میری رائے میں مومن کے لیے یہ تلاش واجبات میں سے ہے۔ اور میری رائے میں وہ گھر بہشت کی طرح پاک اور برکتوں کا بھرا ہوا ہے جس میں مرد اور عورت میں محبّت و اخلاص و موافقت ہو’’۔
(مکتوبات احمد جلد دوم مکتوب نمبر 37 صفحہ 59)
نیز حضرت مسیح موعودؑ کی طرف سے حضرت امّاں جانؓ کے ساتھ خصوصی تعلق اور آپ کی قدر حضور کے دل میں آپ کی خوبیوں اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے بھی زیادہ تھی۔ حضرت اماں جانؓ سے حضرت مسیح موعودؑ کا سلوک کیا تھا۔ آپؑ کس قدر اکرام، احترام اور محبت اور دلداری کے ساتھ اماں جان کے ساتھ پیش آتے تھے۔ اس بارہ میں سیرت کی کتب میں بہت سے واقعات آتے ہیں۔ اسی طرح صحابہ کرام اور صحابیات کی بھی اس بارہ میں بہت سی روایات ملتی ہیں۔ ایک مختصر سے مضمون میں ان کا ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔ مختصر طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر طرح آپ کا خیال رکھتے تھے۔ اگر کبھی آپ بیمار ہوتیں تو باوجود بہت زیادہ مصروف الاوقات ہونے کے آپ کی تیمارداری میں مصروف ہو جاتے۔ غذا کا اہتمام فرماتے۔ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کو علاج کے لئے بلواتے۔ ڈاکٹرصاحبان سے مشورہ کرتے اور پھر اپنے ہاتھ سے ان کو دوا دیتے۔ ضرورت کے وقت حضرت اماں جانؓ کو خود دباتے بھی تھے۔ غرض آپ کی تسلّی، تسکین اور آرام کی خاطر ہر طرح کوشش کرتے۔ حضرت امّاں جانؓ نے ایک واقعہ بیان فرمایا ہے جو بظاہر بہت معمولی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اس سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ حضورؑ کس طرح حضرت اماں جانؓ کا خیال رکھتے اور آپ کے آرام کے لئے کوشش فرماتے تھے۔ آپ نے بتایا کہ آپ روشنی کے بغیر سو نہیں سکتی تھیں دوسری طرف حضرت مسیح موعودؑ اندھیرے میں سونے کے عادی تھے۔ اماں جانؓ کی وجہ سے حضور بتی جلتی رکھتے۔ جب حضرت اماں جان سو جاتیں تو روشنی گل کر دیتے۔ حضرت اماں جانؓ فرماتی ہیں جب مَیں کروٹ لوں تو اندھیرا معلوم ہوتا تو اماں جان ؓروشنی کے لئے کہتیں اور حضور روشنی کر دیتے۔ آخرکار حضور کو بھی روشنی میں سونے کی عادت ہوگئی اور اماں جانؓ کے لئے حضورؑ خصوصی طورپر سارے گھر کو روشن کرنے کا بندوبست فرماتے۔ اس بارہ میں ایک بار اماں جانؓ نے حضرت صاحب کو مخاطب کرتے فرمایا: ‘‘حضرت صاحب وہ وقت یاد ہے جب آپ کو روشنی میں نیندنہیں آیا کرتی تھی اور اب اگر کونےکونے میں روشنی نہ ہو تو آپ کو نیند نہیں آتی’’۔
(سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ صفحہ 410)
ایک نہایت دلچسپ واقعہ محترمہ امۃالرحمٰن صاحبہ نے جو حضرت قاضی ضیاءالدین صاحبؓ کی صاحبزادی تھیں اپنے بچپن میں کافی عرصہ حضورکے گھر میں رہیں بیان کیا ہے جس سے حضور اور حضرت اماں جانؓ کے باہمی تعلق پر روشنی پڑتی ہے کہ وہ کیسے بےتکلفی اور محبت پر مبنی تھے۔ آپ فرماتی ہیں : ‘‘ایک دن حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت ام المومنین صاحبہ نے یہ تجربہ کرنا چاہا کہ دیکھیں آنکھیں بند کر کے کاغذ پر لکھا جا سکتا ہے یا نہیں’’۔ چنانچہ حضورؑ اور حضرت اماں جانؓ نے آنکھیں بند کرکے ایک ایک فقرہ تحریر کیا۔ (سیرت المہدی حصہ چہارم روایت نمبر 1204)
اپنے دوستوں اور اپنے ماننے والوں سے بھی حضورؑ یہی توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنے عائلی تعلقات اسی نمونہ کے مطابق استوار کریں۔ اس ضمن میں حضورؑ نے حضرت مولوی عبدالکریمؓ کو جو نصیحت فرمائی تھی وہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ اسی طرح حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘آپ نے اپنے گھر کے لوگوں کی نسبت جو لکھا تھا کہ بعض امور میں مجھے رنج پیدا ہوتا ہے۔ سو مَیں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے۔ مَیں اس حدیث پر عمل کرنا علامت سعادت سمجھتا ہوں جو رسول اللہﷺ نے فرمایا اور وہ یہ ہے۔ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ یعنی تم میں سے اچھا آدمی وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہو۔ عورتوں کی طبیعت میں خداتعالیٰ نے اس قدر کجی رکھی ہے کہ کچھ تعجب نہیں کہ بعض وقت خدا اور رسول یا اپنے خاوند یا خاوند کے باپ یا مرشد یا ماں یا بہن کو بُرا کہہ بیٹھیں اور ان کے نیک ارادہ کی مخالفت کریں۔ سوایسی حالت میں بھی کبھی ایک مناسب رعب کے ساتھ اورکبھی نرمی سے ان کو سمجھا دیں اور ان کی تعلیم میں مشغول رہیں۔ لیکن ان کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کریں اور مروّت اور جوانمردی سے پیش آویں اور ان کو سمجھاتے رہیں کہ مسلمان کے لئے آخرت کا فکر ضروری ہے تا خداتعالیٰ مصیبتوں سے بچاوے۔ وہ ہیبت ناک چیز جو خاوند اور بیوی اور بچوں اور دوستوں میں جدائی ڈالتی ہے جس کا دوسرے لفظوں میں نام موت ہے دعا کرنا چاہیے کہ وہ بےوقت نہ آوے اور تباہی نہ ڈالے اور دل نرم رکھنا چاہئے۔ اور ان کو سمجھا دیں کہ نماز کی پابندی کریں۔ نماز جنابِ الٰہی میں عرض معروض کا موقع دیتی ہے۔ اپنی زبان میں دنیا اور آخرت کے لئے دعائیں کریں۔ بدتقدیروں سے ڈرتے رہیں۔ خداتعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے جو امن کے وقت میں ڈرتے رہیں اور نیز آپ ان کے واسطے نماز میں دعائیں کریں۔ یہ نازیبا بات ہے کہ ادنیٰ لغزش دیکھ کر دل میں قطع تعلق کریں۔ بلکہ وفاداری سے اصلاح کے لئے کوشش کریں اور سچی ہمدردی سے کام لیں’’۔
(مکتوبات احمد جلد 2مکتوب نمبر35صفحہ 235-234)
ایک واقعہ کا تعلق اخباربدر کے بانی ایڈیٹر حضرت بابو محمد افضلؓ سے متعلق ہے۔ آپ حضورؑ کے صحابی تھے۔ افریقہ میں ملازم تھے اور بہت خوشحال تھے۔ ان کی دو بیویاں تھیں اور انہوں نے دونوں بیویوں کو قادیان میں رکھا ہوا تھا۔ 1899ء میں انہوں نے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحبؓ کو خط لکھا اور تحریر کیا کہ ان کی بیویوں کو ان کے پاس بھجوا دیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تحریر کیا کہ جو بیوی آنے سے انکار کرے اس کو طلاق دیتا ہوں۔ حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحبؓ نے یہ خط حضورؑ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضورؑ کو اس خط سے بہت رنج پہنچا اور حضرت مولوی صاحبؓ کو فرمایا وہ تو جب طلاق دے گا ان کو لکھ دیں کہ ‘‘ایسے شخص کا ہمارے ساتھ تعلق نہیں رہ سکتا کیونکہ جو اتنے عزیز رشتہ کو ذرا سی بات پر قطع کر سکتا ہے وہ ہمارے تعلقات میں وفاداری سے کیا کام لے گا ’’۔
حضور کا ارشاد بابو محمد افضلؓ کو پہنچا تو انہوں نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ وہ اپنی دونوں ازواج کو اپنے پاس ہی رکھیں گے اور اپنی بہت آمدنی والی ملازمت کو چھوڑ کر حضور کی صحبت میں رہنے کے لئے قادیان آگئے اور اخباربدر کا اجراء کیا اور حضور کی مصروفیات اور حضور کے ملفوظات کی اشاعت کا کام شروع کر دیا اور باقی زندگی حضور کے قدموں میں گزاری اور 1905ء میں حضور کے قدموں میں ہی وفات پائی۔
(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ صفحہ 253)
حضرت چوہدری نذر محمدؓ بیان کرتے ہیں کہ سلسلہ احمدیہ میں منسلک ہونے سے پہلے ان کی حالت اچھی نہ تھی اور وہ اپنی اہلیہ کو پوچھتے تک نہ تھے۔ وہ حضور سے ملاقات کے لئے قادیان گئے جہاں پتہ لگا کہ حضور گورداسپور میں ہیں۔ چوہدری نذر محمد صاحب بھی گورداسپور گئے اوروہاں حضور سے ملاقات ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں حضور کے پاس بیٹھاتھا کہ ایک اور دوست ملنے کے لئے آئے اور انہوں نے حضور سے ذکر کیا کہ ان کے سسرال والوں نے ان کی بیوی بڑی مشکلوں سے ان کو دی ہے اس لئے اب وہ بھی اپنی بیوی کو اس کے ماں باپ کے پاس نہ بھجوائیں گے۔ چوہدری نذر محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؑ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور حضور نے بڑے غصے سے اس دوست کو فرمایاکہ فی الفور یہاں سے دور ہو جائو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری وجہ سے ہم پر بھی عذاب آجائے۔ اس پروہ دوست باہر چلے گئے اور پھر تھوڑی دیر بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ وہ توبہ کرتا ہے جس پر حضور نے اسے بیٹھنے کی اجازت عطا فرمائی۔ چوہدری نذر محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ واقعہ دیکھ کر وہ دل میں سخت نادم ہوئے کہ وہ اپنی بیوی کو پوچھتے تک نہیں اور اپنے سسرال کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے وہیں بیٹھے ہوئے توبہ کی اور عہد کیا کہ جاکر بیوی سے معافی مانگوں گا۔