مکرم سعید احمد عارف صاحب مربی سلسلہ،
ایڈیشنل سیکرٹری تربیت جرمنی
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَبَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّنِسَآءً ۚوَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَالۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ رَقِیۡبًا
(النساء 2)
تصوّر کریں کہ آپ ایک ہوائی جہاز میں بیٹھے ہیں اور اچانک اس کے انجن کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جہاز صرف ہوا میں تیر رہا ہے اور مسلسل نیچے کی طرف جا رہا ہے۔ پھر لاؤڈ اسپیکر پر پائلٹ کی آواز گونجتی ہے:
"Embrace for Impact”
‘‘یعنی جہاز حادثہ کا شکار ہونے والا ہے، اس کے لیے تیار ہو جائیں’’۔ اس کے بعد جہاز کے اندر ایک سنّاٹا چھا جاتا ہے۔ تمام مسافر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنے ماضی کو ٹٹولنے لگتے ہیں۔ اس لمحے آپ کے ذہن میں کیا خیالات آئیں گے؟ آپ اپنی گزشتہ زندگی کو مڑ کر کیسے دیکھیں گے؟ کن لمحات کی آپ قدر کریں گے اور کن پر آپ کو افسوس ہوگا؟یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے۔ یہ واقعہ درحقیقت 2009ء میں نیویارک میں پیش آیا تھا، جب ایک ہوائی جہاز کو انجن خراب ہونے کی وجہ سےدریائے ہڈسن میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔ اس ہوائی جہاز میں ایک تاجر بھی سوار تھا، جس نے اس خاموشی کے دوران اپنی پوری زندگی کا جائزہ لیا۔ اس کا مال و متاع، اس کا کاروبار، یہ سب اچانک اس کے لیے بےمعنی ہوچکے تھے۔ جو بات اسے پریشان کر رہی تھی، وہ یہ سوالات تھے: ‘‘مَیں کیسا انسان تھا؟ کیا مَیں نے اپنی اَنا کو اپنی انسانیت کے راستے میں رکاوٹ بننے دیا؟ میرا سلوک ان لوگوں کے ساتھ کیسا تھا جو میرے لیے سب سے زیادہ اہم تھے؟ مَیں بطور شوہر اور باپ کیسا تھا؟’’
یہ ایک ایسے شخص کے خدشات اور پشیمانیاں تھیں جو موت کا سامنا کر رہا تھا اورجس کی زندگی ختم ہونے والی تھی۔ اس تجربے کے بعد، اس نے اپنی زندگی کو ان نئی ترجیحات کے مطابق ڈھالا، جن کا ادراک اس خاموشی کے لمحے میں ہوا تھا۔ وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اچانک دوبارہ ایسے ہی موت درپیش ہونے کی صورت میں اُسے اِنہی خدشات اور پشیمانیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ کیا یہ دانشمندی نہیں کہ ہم شروع ہی سے ایک ایسی زندگی گزاریں کہ قریب المرگ ہونے کے باوجود ہمیں کوئی پچھتاوا اور پشیمانی دامنگیر نہ ہو؟ انسان کو حقیقی سکون تب ہی ملتا ہے جب وہ اُس مقصد کو پورا کرے جس کے لیے خدا نے اسے پیدا کیا ہے اورجوا س کی فطرت کا جزو لاینفک ہے: یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا: ‘‘اِنسان اصل میں اُنسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں۔ ایک اللہ تعالیٰ سے دوسرا بنی نوع کی ہمدردی سے۔ جب یہ دونوں اُنس اس میں پیدا ہو جاویں اس وقت اِنسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسانیت کا مغز کہلاتی ہے … جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں’’۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 53)
یعنی جب تک انسان اللہ اور بنی نوع انسان کے حقوق ادا نہیں کرتا، وہ نہ تو حقیقی خوشی حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی انسانیت کے مرکزی نکتہ کوپا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات ان دونوں حقوق کوپورا کرنے کی طرف ہماری راہنمائی کرتی ہیں۔ اسلام ہمیں اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے لیے تیار کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کیے گئے ہمارے اعمال اُس پشیمانی کو دور کرتے ہیں جو زندگی کے آخر میں ہمیں پریشان کر سکتی ہے۔
دنیا بھر کے لوگوں میں یہ بات مشترک ہے کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے سماجی تعلقات پر، بالخصوص اپنے اہل خانہ کے ساتھ، غور کرتے ہیں۔ اس لیے مَیں خاص طور پر اُن اسلامی تعلیمات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو قریبی رشتوں سے تعلق رکھتی ہیں اور جو ایک ہم آہنگ عائلی زندگی کو یقینی بناتی ہیں اور ساتھ ہی زندگی کے آخر میں ہوسکنے والی پشیمانی سے بچاتی ہیں۔
شادی کا مطلب ایک خاندان کی بنیادڈالنا ہے اور خاندان معاشرے کا ایک بنیادی اور اہم حصہ ہے۔ سب سے چھوٹی خاندانی اِکائی میاں اور بیوی سے شروع ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں بہت سے دوسرے رشتے شامل ہو جاتے ہیں۔ ایک ہم آہنگ عائلی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد صحیح طریق پر استوار کی جائے اور زندگی کے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک، یعنی شریکِ حیات کا انتخاب، اُس معیار کے مطابق کیا جائے جو آنحضورﷺ نے ہمیں خود بتایا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ کسی عورت سے نکاح کرنے کی چار ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا اُس کے خاندان کی وجہ سے یا اُس کے حسن و جمال کی وجہ سے، یا اُس کی دینداری کی وجہ سے۔ لیکن تُو دیندار عورت کو ترجیح دے۔ اللہ تیرا بھلا کرے اور تجھے دیندار عورت حاصل ہو۔
(بخاری کتاب النکاح باب الأکفاء فی الدین حدیث نمبر5090)
اگر ہم نبی اکرمﷺ کی اس نصیحت پر عمل کریں، تو ہم شریکِ حیات کے انتخاب میں ہی آخرت کے لیے تیاری کرسکتے ہیں اور زندگی کے آخر میں ہوسکنے والی پشیمانی کے امکان کو دور کر سکتے ہیں۔ چونکہ حدیث میں ذکر کیے گئے پہلے تین معیار ہمارے اعمال کو صرف اس دنیا تک محدود کر دیتے ہیں۔ جس طرح یہ دنیا فانی ہے، اسی طرح مال، خوبصورتی اور خاندان کی عزت بھی فانی ہے، لیکن جو چیز آخرت تک پائیدار اثر رکھتی ہے، وہ ہے دین، اور یہی شریکِ حیات کے انتخاب کا سب سے اہم معیار ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ خاندان کے جوہر کو شکل دے گا اور ایک ہم آہنگ شادی میں معاون ہوگا، کیونکہ اس طرح دونوں ایک ہی راستے پر چلیں گے اور زندگی کے سفر میں ایک ہی مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک ہی راستے پر تب ہی چلا جا سکتا ہے جب شادی کے لیے ایک مشترکہ بنیاد اور اقدار موجود ہوں اور یہ نکاح کی تقریب میں تلاوت کی جانے والی قرآنی آیات سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان آیات کی روشنی میں مرد اور عورت شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں اوراسلامی احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کرتے ہیں۔ آغاز میں تلاوت کی گئی آیت کا ترجمہ یہ ہے: ‘‘اے لوگو! اپنے ربّ کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں میں سے مردوں اور عورتوں کو بکثرت پھیلا دیا۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے نام کے واسطے دے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رِحموں (کے تقاضوں) کا بھی خیال رکھو۔ یقیناً اللہ تم پر نگران ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ‘‘یَایُّھَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ۔ یہاں آیت میں اِتَّقُوا اللہَ رَبَّكُم بھی ہے اور بہت سے کنٹیکسٹ (Context) میں تقویٰ کا ذکر ہے لیکن اس آیت میں جونکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہے ربّ کا تقویٰ۔ اور یہ ربّ کا تقویٰ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔ تم دونوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔ اسی طرح تم پر بھی ربوبیت کی ذمہ داریاں کچھ نئی پڑنے والی ہیں اور اسی صورت میں تم ادا کر سکو گے جب تم حقیقی ربّ، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو گے’’۔ (خطبات ناصر، جلد دہم صفحہ 711)
انسان کو اللہ تعالیٰ کی فطرت پر تخلیق کیا گیا ہے۔ شادی کے ذریعے اسے اللہ کی صفات کو مزید گہرائی سے اپنانے کا موقع ملتا ہے۔ کیونکہ اس کا دائرہ کار، جس میں وہ اللہ کی صفات کو ظاہر کرتا ہے، وسیع ہوتا ہے اور اس میں شریکِ حیات، اولاد، سسرال اور دیگر افراد شامل ہوتے ہیں۔ وہ اپنی بیوی، بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کے لیے ربّ (پالنے والا) بن جاتا ہے۔ الرحمٰن کی صفت، یعنی اللہ کا بغیر مانگے دینا بھی نئے دائروں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح الرحیم کی صفت بھی یعنی اللہ کا مانگنے پر دینا، اس صفت کا اثر بھی رشتہ داروں کے وسیع تر حلقہ پر اثر انداز ہونے لگتا ہے۔ جس طرح اللہ خالق ہے، اسی طرح مرد اور عورت کے رشتے سے جنم لینے والے بچے ان دونوں کو اس صفت کا بھی مظہر ہونے کے قابل بناتے ہیں۔
شادی کے ذریعے انسان کو روحانی طور پر ترقی کرنے اور اپنے پیارے خالق کے قریب آنے کا موقع ملتا ہے، لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب وہ اپنے دل میں تقویٰ رکھتا ہو۔ حضورانور نے اس حوالہ سے فرمایا: ‘‘(اعلانِ نکاح کے وقت) سب سے پہلی نصیحت یہ ہے کہ تقویٰ پر قدم مارو، تقویٰ اختیار کرو۔ تو نکاح کے وقت اس نصیحت کے تحت ایجاب و قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ نکاح کی منظوری دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم ان پر عمل کریں گے۔ کیونکہ اگر حقیقت میں تمہارے اندر تمہارے اس ربّ کا، اس پیارے ربّ کا پیار اور خوف رہے گا جس نے پیدائش کے وقت سے لے کر بلکہ اس سے بھی پہلے تمہاری تمام ضرورتوں کا خیال رکھا ہے، تمام ضرورتوں کو پورا کیا ہے تو تم ہمیشہ وہ کام کرو گے جو اس کی رضا کے کام ہیں اور اس کے نتیجہ میں پھر ان انعامات کے وارث ٹھہرو گے’’۔ (خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 566)
ان انعامات میں سے ایک خوشگوار عائلی زندگی بھی ہوگی، اور اگر کوئی اس نصیحت پر عمل کرتا ہے تو زندگی کے آخر میں پشیمانی کی اذیت سے بچ سکتا ہے۔
شادی کے علاوہ، بچوں اور والدین کے درمیان کا تعلق بھی ایک بھرپور زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے والدین کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہیں، تو ہم اپنے خاندان کی خوشی کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور خود کو پشیمانی کی اذیت سے دوچار کرسکتے ہیں۔ اسلام ہمیں اس ضمن میں ایک واضح رہنمائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الاحقاف میں فرماتا ہے۔ وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسَانًا (الاحقاف 16) اور ہم نے انسان کو تاکیدی نصیحت کی کہ اپنے والدین سے احسان کرے۔
اسی طرح سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًاؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡہَرۡہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا﴿﴾ وَاخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَقُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا (بنی اسرائیل 24،25)
اور تیرے ربّ نے فیصلہ صادر کردیا ہے کہ تم اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک کرو۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی، تو اُنہیں اُف تک نہ کہہ اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔ اور ان دونوں کے لئے رحم سے عجز کا پَر جھکا دے اور کہہ کہ اے میرے ربّ! ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی۔
کیا ہی خوبصورت تعلیم ہے کہ اس پر ہم فخر کرسکتے ہیں! لیکن ہم میں سے کتنے اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں۔ کتنے ہیں جو صبر کرنے کے ساتھ ساتھ احسان کا سلوک بھی کرتے ہیں اور والدین کے لیے دعا بھی کرتے ہیں۔ مثلاً جب والدین بوڑھے ہو جائیں اور بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہوں، انہیں اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ کے استعمال کے سلسلہ میں مدد کی ضرورت ہو، یا روزمرہ کے کاموں میں مدد کی ضرورت ہو، تو بشاشت کے ساتھ ان کی خدمت کے لیے تیار رہتے ہیں۔
آنحضرتﷺ یتیم تھے اور آپ کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، لیکن اس کے باوجود آپ والدین کے حقوق کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ ایک بار ایک شخص نبی اکرمﷺ کے پاس بیعت کرنے کی غرض سے آیا اور ذکر کیا کہ وہ اپنے روتے ہوئے والدین کو گھر پر چھوڑ کر آیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اسے فرمایا: ‘‘واپس جاؤ اور انہیں ہنساؤ جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے’’۔
(سنن ابی داؤد کتاب الجہاد)
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ‘‘جو شخص یہ چاہے کہ اس کی زندگی لمبی ہو اور اس کی روزی میں اضافہ ہو، اسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرنے کی عادت ڈالے’’۔(مسند احمد بن حنبل)
کتنا تکلیف دہ وہ وقت ہوگا جب ہمارے پاس اپنے والدین کی خدمت کرنے کا موقع نہ ہوگا کیونکہ اس وقت وہ زندہ نہیں ہوں گے۔ نبی اکرمﷺ نے ایسے شخص کو بدنصیب قرار دیا ہے۔ ایک روایت میں ذکر ملتا ہے کہ ایک بار آنحضورﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ جب پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ‘‘آمین’’۔ پھر دوسری پر چڑھے تو فرمایا: ‘‘آمین’’ پھر تیسری پر چڑھے تو فرمایا: ‘‘آمین’’۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو تین مرتبہ آمین کہتے ہوئے سنا؟ آپؐ نے فرمایا: ‘‘جب میں پہلی سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل میرے پاس آئے اور کہا: بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا، پھر وہ گزر گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی تو میں نے کہا: آمین۔ پھر کہا: بدنصیب ہے وہ بندہ جس نے اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کو پایا اور انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کرایا تو میں نے کہا: آمین۔ پھر کہا: کم بخت ٹھہرا وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر ہوا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا۔ میں نے کہا:آمین’’۔
(الادب المفرد حدیث 644)
یہ ایک فرشتے کی دعائیں تھیں اور فرشتے صرف اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ آنحضرتﷺ نے ان دعاؤں پر آمین کہا اور اس طرح ان دعاؤں میں شریک ہوئے۔ یہ ناممکن ہے کہ ان دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے قبول نہ کیا ہو۔ یقیناً وہ قبول ہوئیں اور یہ ہمارے لیے ایک تنبیہہ ہے کہ اگر ہم اپنے والدین کو نظرانداز کردیں گے، تو ہم اس طرح جنّت حاصل کرنے کا موقع گنوا دیں گے۔ اور اپنے والدین کی خدمت نہ کرنے کا افسوس زندگی کے آخر تک ہمارے لیے کتنا تکلیف دہ ہوگا۔ تو کیا یہ عقلمندی نہیں کہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور جب تک ہم زندہ ہیں خوشگوار عائلی زندگی کو یقینی بنائیں؟
لیکن ان لوگوں کا کیا جو خود تو زندہ ہیں لیکن ان کے والدین زندہ نہیں ہیں؟ آنحضرتﷺ نے ان کے جذبات کا بھی خیال رکھا اور انہیں ایک راستہ دکھایا۔ ایک شخص نے آپؐ سے پوچھا: یارسول اللہﷺ والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو مَیں ان کے لئے کر سکوں؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔ تم ان کے لئے دعائیں کرو، ان کے لئے بخشش طلب کرو، انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ ان کے عزیز و اقارب سے اسی طرح صلہ رحمی اور حسنِ سلوک کرو جس طرح وہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کے دوستوں کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آؤ۔ (سنن ابو داؤد کتاب الادب)
یہ اسلامی تعلیمات کے صرف چند پہلو ہیں جو والدین کے ساتھ تعلقات کے سلسلہ میں راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم خوشگوار عائلی زندگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ خاندان کا ہر فرد اپنا حصہ ڈالے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی فکر میں رہے۔ اس لیے اسلام صرف والدین کے حقوق کی طرف اشارہ نہیں کرتا، بلکہ والدین کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔
آنحضورﷺ نے فرمایا: ‘‘جس طرح تمہارے والدین کے تم پر حقوق ہیں، اسی طرح تمہارے بچوں کے بھی تم پر حقوق ہیں’’۔ (الادب المفرد)
آپؐ نے ان میں سے کچھ حقوق کا ذکر یوں فرمایا: ‘‘باپ پر بچے کے حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسے ایک اچھا نام دے، اسے اچھے اخلاق سکھائے اور جب وہ شادی کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کی شادی کرے’’۔
(شعب الایمان، البیھقی)
ایک طرف اسلامی تعلیمات ہمیں خوشخبری دیتی ہیں کہ بچے اپنے والدین کے ذریعے جنّت حاصل کر سکتے ہیں۔ آنحضورﷺ نے فرمایا باپ جنّت کا درمیانی دروازہ ہے، (سنن ترمذی کتاب البر والصلۃ) اور ماں کے بارے میں فرمایا کہ جنّت ماں کے قدموں تلے ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب والدین بچوں کی اچھی تربیت کے حوالہ سے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں تو ان کے بچے اس طرح جنت کا راستہ پا سکتے ہیں۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے خاندانوں کو جہنم سے بچانے کی تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَاَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا (التحریم 7) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ (بنی اسرائیل 32) اور اپنی اولاد کو کنگال ہونے کے ڈر سے قتل نہ کرو۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی یوں وضاحت فرمائی ہے کہ یہ ظاہر ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو صرف پیسہ بچانے کے لیے اپنے بچوں کو واقعی قتل کر دے۔ بلکہ یہ آیت ان والدین کو تنبیہ کرتی ہے جو اپنے بچوں کو بالواسطہ طور پر ‘‘قتل’’ کرتے ہیں، یعنی ان کی جسمانی دیکھ بھال، اخلاقی تعلیم و تربیت کو نظرانداز کرتے ہیں۔ جہاں تک اخلاقی تربیت کا تعلق ہے، آنحضورﷺ نے ہمیں ایک بہت اہم نصیحت فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: أَكْرِمُوا أَوْلاَدَكُمْ وَأَحْسِنُوا أَدَبَھُمْ یعنی اپنے بچوں کا احترام کرو اور انہیں بہترین اخلاق سکھاؤ۔
(سنن ابن ماجہ)
اس سے مراد یہ ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ سمجھداری اور ہمدردی سے پیش آنا چاہیے، تاکہ ان میں وقار اور خوداعتمادی پیدا ہو اور ان کی تربیت باوقار انسانوں کی طرح ہو، اس دوران انہیں بچوں میں بہترین اخلاقی اقدار پیدا کرنی چاہئیں تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو وہ خدا، بنی نوع انسان اور اپنے خاندان کے حقوق کو مناسب طریقے سے پورا کر سکیں اور معاشرے کا ایک مفید حصہ بنیں۔ یہی بچے کل والدین بنیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کے گھر میں ہم آہنگی اور امن کا ماحول ہو۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا کہ بچوں کے احترام کے حوالہ سے تعلیم، تمام مذاہب میں سے اسلام کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔ آپؓ نے فرمایا: ‘‘دنیا کے کسی اور مذہب نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا کہ اولاد کے واجبی اکرام کے بغیر بچوں کے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا نہیں کئے جاسکتے۔ بعض نادان والدین بچوں کی محبت کے باوجود ان کے ساتھ بظاہر ایسا پَست اور عامیانہ سلوک کرتے اور گالی گلوچ سے کام لیتے ہیں کہ ان کے اندر و قار اور خودداری اور عزت نفس کا جذبہ ٹھٹھر کر ختم ہو جاتا ہے۔ پس ہمارےآقا (فداہ نفسی) کی یہ تعلیم درحقیقت سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے کہ اپنی اولاد کے ساتھ بھی واجبی اکرام سے پیش آنا چاہیے تا ان کے اندر باوقار انداز اور اعلیٰ اخلاق پیدا ہوسکیں۔ (چالیس جواہر پارے صفحہ 72)
خوشگوار عائلی زندگی کے لیے یہ بنیادی بات ہے کہ تمام بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اِعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلاَدِكُمْ فِیْ الْعَطِیَّۃِ یعنی جب تم اپنے بچوں کو تحفے دو تو ان کے درمیان انصاف کرو۔ (صحیح بخاری)ایک بار جب آنحضورﷺ کو معلوم ہوا کہ ایک باپ نے اپنے ایک بیٹے کو تحفہ دیا ہے، تو آپ نے پوچھا کہ کیا اس نے اپنے تمام بیٹوں کو یہی تحفہ دیا ہے؟ جب باپ نے انکار کیا، تو آپؐ نے اسے وہ تحفہ واپس لینے کی ہدایت کی۔
(صحیح بخاری)
آپؐ نے یہ بھی سکھایا کہ والدین جنّت حاصل کر سکتے ہیں اگر وہ بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیح نہ دیں۔ (سنن ابوداؤد)
حضرت مسیح موعودؑ نے بھی کامیاب تربیت کے لیے اہم ہدایات دی ہیں جو خوشگوار عائلی زندگی میں معاون ہیں۔ ایک بار جب آپؑ کو معلوم ہوا کہ کسی نے اپنے بچے کو مارا ہے، تو آپؑ نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میری نظر میں یہ ایک قسم کا شرک ہے، آپؑ نے فرمایا: ‘‘ہدایت اور تربیتِ حقیقی خدا کا فعل ہے۔ سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرتا ہےکہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں۔ اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔ یہ ایک قسم کا شرکِ خفی ہے۔ اس سے ہماری جماعت کو پرہیز کرنا چاہیے۔’’
(ملفوظات جلد اول صفحہ 309)
حضرت مسیح موعودؑ خود اپنے بچوں کی تربیت کیسے کرتے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا: ‘‘ہم تو اپنے بچوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آدابِ تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔ بس اس سے زیادہ نہیں۔ اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔ جیسا کسی میں سعادت کا تُخم ہوگا وقت پر سرسبز ہو جائے گا’’۔
(ملفوظات جلد اول صفحہ 309 ایڈیشن 1984ء)
حضرت مسیح موعودؑ نے ایک اور جگہ والدین کو بچوں کے لیے نمونہ بننے اور دعا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: ‘‘خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لیے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لیے سعی اور دعا کرو۔ جس قدر کوشش تم ان کے لیے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو’’۔
(ملفوظات جلد 8 صفحہ 109 ایڈیشن 1984ء)
حضرت مسیح موعودؑ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ‘‘میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لیے دعا نہیں کرتا’’۔ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 311)
حضورانور نے والدین کو نمونہ بننے کے حوالہ سے فرمایا: ‘‘اپنے بچوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کریں، انہیں متقی بنا ئیں۔ اور یہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک والدین خود متقی نہ ہوں یا متقی بننے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ جب تک عمل نہیں کریں گے زبانی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اگر بچہ دیکھ رہا ہے کہ میرے ماں باپ اپنے ہمسایوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے، اپنے بہن بھائیوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر میاں بیوی میں، ماں باپ میں ناچاکی اور جھگڑے شروع ہو رہے ہیں۔ تو پھر بچوں کی تربیت اور ان میں تقویٰ پیدا کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے بچوں کی تربیت کی خاطر ہمیں بھی اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے’’۔
(خطبات مسرور جلد اول صفحہ 150)
یہ اسلامی تعلیمات کے صرف چند پہلو تھے جو میاں بیوی اور والدین اور بچوں کے تعلقات سے متعلق ہیں۔ یہ تعلیمات اور نظریات بہت خوبصورت ہیں لیکن یہ بےفائدہ ہوں گے اگر صرف کتابوں اور تقاریر تک محدود ہو کر رہ جائیں یا عارضی جذبات کے زیرِاثرصرف وقتی طور پر ان پر عمل کیا جائے۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ یہ تعلیمات عملی طور پر ہماری روزمرہ کی زندگی میں کیسے شامل ہوں؟
ان تعلیمات کو زندہ کرنے کا ایک اہم قدم دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں خوشگوار عائلی زندگی کے لیے ایک بہترین دعا سکھلائی ہے: رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا یعنی اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔ (الفرقان 75) یہ دُعا ان تمام تعلقات کا احاطہ کرتی ہے جن کا ابھی ذکر کیا گیا۔ یہ میاں بیوی کی، ایک دوسرے کے لیے دعا ہے۔ یہ بچوں کے لیے دعا ہے۔ اور یہ خود والدین کے لیے دعا ہے تاکہ وہ دوسروں کے لیے مثال اور نیک انسان بنیں۔یہ خوبصورت اور مکمل دعا اگر خلوص کے ساتھ مانگی جائے اور اللہ اسے قبول کرلے، تو خوشگوار عائلی زندگی کو ممکن بناتی ہے اور اس طرح ایک بھرپور زندگی اور ایک ایسا اختتام بخشتی ہے جو پشیمانی کی اذیت میں مبتلا نہیں ہوتا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ اس دعا پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: ‘‘جب آپ پوری دلجمعی سے اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے دعا کرتے ہیں تو اس دعا کا اثر لازماً آپ کے کردار اور طرزعمل پر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم میں سے بہت سے ہیں جو ہمیشہ سچ بولنا چاہتے ہیں مگر ان کی یہ خواہش کبھی کبھار ہی عمل کا روپ دھارتی ہے۔ لیکن جو لوگ پورے اخلاص اور صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ انہیں ایک سچا انسان بنا دے ان کی دعا ئیں ان کے کردار پر ان لوگوں کی نسبت کہیں زیادہ اثرانداز ہوتی ہیں جو سچا انسان بننے کی محض ایک مبہم سی خواہش رکھتے ہیں۔ خلوصِ دل سے دعا کرنے والا اپنے عمل میں بہتری پیدا کرنے کی سچی کوشش کرتا ہے۔ تربیتِ اولاد کی دعا کے بعد اگر کوئی شخص اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کرےگا جو اس دعا کے ساتھ مطابقت اور مناسبت نہ رکھتا ہو تو یہ ایک عجیب و غریب اور ناقابلِ فہم سی بات ہوگی’’۔
(اسلام اورعصر حاضر کے مسائل صفحہ 129)
خوشگوار عائلی زندگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ سب ایک جیسی اقدار کو اپنائیں۔ اگر صرف ایک شریکِ حیات مخلص ہو اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرے، اور دوسرا نہیں تو کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور ایک خاندان ہم آہنگ نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ ہمیشہ گفتگو اور دلیل سے قائل کیا جائے اور نصیحت کی جائے۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ نصیحت یقیناً فائدہ دیتی ہے۔
الحمدللہ، ہمارے پاس خلیفۂ وقت کی صورت میں ایک ایسی ہستی ہے جو ہمیں ہماری بھلائی کے لیے ہمیشہ اسلامی تعلیمات کی یاد دلاتی ہے اور خلافت کی بدولت ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے جو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے ہمیشہ نصیحت کرتا ہے۔
نکاح کے موقع پر آخری آیت جو تلاوت کی جاتی ہے، وہ یہ ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍۚ وَاتَّقُوا اللہَؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ (الحشر 19)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔
یہ آیت میاں بیوی کو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے اعمال ان بیجوں کی طرح ہیں جو ہم بوتے ہیں، اور ہم اپنی تخم ریزی کے مطابق ہی فصل کاٹیں گے۔ یہ آیت میاں بیوی کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ نیک نتیجہ ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ ہمارے اعمال بیج کی مانند ہیں جو ہم بوتے ہیں، اور جیسا بیج ہم بوئیں گے ویسی ہی فصل کاٹیں گے۔ اگر ہمارے اعمال اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوں گے تو ہم دنیا و آخرت میں ان کے اچھے پھل حاصل کریں گے۔ ورنہ زندگی کے اختتام پر تکلیف دہ حسرتیں ہوں گی، جو آخرت کی سزا کا ایک ابتدائی ذائقہ ثابت ہوں گی۔ آئیے ہم مزید وقت ضائع نہ کریں اور جن حسرتوں کا زندگی کے آخر میں ہمیں فکر دامنگیر ہے ابھی سے ادراک کر لیں اور پھر اسی درد سے قوت حاصل کرتے ہوئے اپنی گھریلو زندگی میں اپنے طرزعمل کو بہتر بنائیں، تاکہ ہم اسی دنیا میں جنّت کی خوشبو کو محسو س کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین
