ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو تفقہ فی الدین کریں یعنی جو دین آنحضرتﷺ نے سکھایا ہے اس میں تفقہ کر سکیں۔یہ نہیں کہ طوطے کی طرح یاد ہو اور اس میں غور و فکر کی مطلق عادت اور مذاق ہی نہ ہو۔ اس سے وہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی جو آنحضرتﷺ چاہتے تھے …لیکن چونکہ سب کے سب ایسے نہیں ہو سکتے اس لیے یہ نہیں فرمایا کہ سب کے سب ایسے ہو جائیں بلکہ یہ فرمایا کہ ہر جماعت اور گروہ میں سے ایک ایک آدمی ہو اور گویا ایک جماعت ایسے لوگوں کی ہونی چاہیے جو تبلیغ اور اشاعت کا کام کر سکیں۔
(الحکم 17 جنوری 1906ء صفحہ 4)
