حضرت مسیح موعود کی عائلی زندگی کے متعلق مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب مرحوم ابن حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ کے مضامین الفضل انٹرنیشنل ماہ جنوری و فروری 2011ء میں شائع ہوتے رہے ہیں جنہیں قارئین کے استفادہ کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ (بشکریہ الفضل انٹرنیشنل)
الہام حضرت مسیح موعود:
‘‘یٰآدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ’’ اے آدم تو مع اپنی زوجہ کے بہشت میں داخل ہو۔ ‘‘یٰٓااَحْمَد اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ’’ اے احمدتو مع اپنی زوجہ کے بہشت میں داخل ہو۔
(روحانی خزائن جلد 15تریاق القلوب صفحہ 288)
حضرت میرمحمد اسماعیل صاحبؓ فرماتے ہیں: ‘‘مَیں نے اپنے ہوش میں نہ کبھی حضور کو حضرت اُمّ المومنین سے ناراض دیکھا نہ سنا۔ بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک (Ideal) آئیڈیل جوڑے کی ہونی چاہیے’’۔
(سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ؓ صفحہ231)
مائی امام بی بی صاحبہ جواپنے خاوند حضرت ٹھیکیدار محمداکبر صاحبؓ کی وفات کے بعد حضور کے گھر رہتی تھیں فرماتی ہیں: ‘‘ہم نے کبھی حضرت اُمّ المومنین کو نہیں دیکھا کہ کسی بات پر بھی حضرت صاحب سے ناراض ہوئی ہوں۔ حضرت صاحب کا ادب کرتیں اور آپ کو خوش رکھتیں۔ ابتداء میں حضرت صاحب صرف تین روپے جیب خرچ دیا کرتے۔ آپ نے کبھی نہیں کہا کہ یہ کم ہیں۔ شکرگزاری سے لے لیتیں’’۔
(سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ صفحہ 414-415)
برّصغیر پاک و ہند اور خاص کر پنجاب کے دیہی معاشرہ میں آج کل بھی عورت کو ایک کم عقل، کم علم اور کم درجہ کی مخلوق کی حیثیت دی جاتی ہے اور زندگی کی اہم باتوں میں اس کی رائے کو کوئی وُقعت نہیں دی جاتی حتیٰ کہ خاندانی یا گھریلو معاملات میں بھی اس سے مشورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی بات سنتا اور اس کو مانتا ہو تو اسے زَن مرید کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ اور آج کے دور میں بھی صورت حال یہ ہے کہ ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو گھر سے باہر بیوی کے قدم بقدم چلنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں اس لئے بیوی سے دو چار قدم آگے رہتے ہیں۔ اس کے مقابل پر حضورؑ کے خاندان کی آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل بھی کیا کیفیت تھی۔ حضورؑ کے سوانح نگار حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ حضورؑ کی والدہ ماجدہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
‘‘حضرت والدہ مکرمہ کی دُور اندیشی، معاملہ فہمی مشہور تھی۔ حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم کے لئے وہ ایک بہترین مشیر اور غمگسار تھیں اور یہی وجہ تھی کہ حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب باوجود اپنی ہیبت اور شوکت اور جلال کے حضرت مائی صاحبہ کی باتوں کی بہت پرواہ کرتے تھے اور ان کی خلافِ مرضی خانہ داری کے انتظامی معاملات میں کوئی بات نہیں کرتے تھے’’۔ (حیات احمد صفحہ 171)
حضرت شیخ صاحب اپنی اس رائے کی تائید میں حضورؑ کی ہمشیرہ حضرت بی بی مراد بیگم صاحبہ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ‘‘بی بی مراد بیگم صاحبہ… جو بجائے خود ایک صاحب حال اور عابدہ زاہدہ خاتون تھیں خداتعالیٰ کی مشیت کے ماتحت وہ عین عنفوانِ شباب میں بیوہ ہو گئیں اور قادیان آگئیں۔ حضرت مسیح موعود کی طرح ان کی زندگی ایک خداپرست خاتون کی زندگی تھی۔ حضرت مائی صاحبہ… اس خداپرست خاتون کے لئے … بہت دردمند اور محبّت سے لبریز دل رکھتی تھیں اور ان کی بیوگی کے زمانہ میں اپنی ذمہ داری کی خصوصیات کو محسوس کرتی تھیں۔ ان حالات میں انہوں نے حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کو مشورہ دیا کہ زنان خانہ میں وہ ہمیشہ دن کو تشریف لایا کریں۔ چنانچہ حضرت مرزاصاحب مرحوم کا اس کے بعد معمول ہوگیا کہ وہ صبح کو اندر جاتے اور گھر کے ضروری معاملات پر مشورہ اور ہدایات کے بعد باہر آ جاتے’’۔ (حیات احمد صفحہ 172)
اس جگہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس زمانہ میں شرفاء کا دستور یہ ہوتا تھا کہ ان کا زنانہ مکان اور مردانہ مکان علیحدہ علیحدہ ہوتے تھے۔ رہائش تو زنانہ مکان میں ہی ہوتی تھی اور رات بھی وہاں گزاری جاتی تھی۔ دن کے اوقات میں مرد عموماً مردانہ میں ہی رہتے تھے۔ لیکن حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب اپنی حرم کے مشورہ کے مطابق اپنی بیٹی حضرت بی بی مراد بیگم صاحبہ کی بیوگی کے پیشِ نظر رات بھی مردانہ حصہ مکان میں ہی گذارتے تھے۔ اس جگہ اس بات پر بحث کا موقعہ نہیں کہ یہ طریق درست یا مناسب تھا۔ مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ زمانہ کے حالات کے برعکس حضرت مسیح موعود کے خاندان میں بیویوں کی رائے کو اہمیت اور وُقعت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان کے مشورہ پر عمل بھی کیا جاتا تھا۔
کچھ یہی کیفیت ہمیں حضورؑ کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی عائلی زندگی میں نظر آتی ہے۔ آپ کی بیگم حُرمت بی بی صاحبہ جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تائی ہونے کی وجہ سے جماعت میں تائی کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہیں بہت جاہ و جلال والی خاتون تھیں اور 1868ء میں حضرت مسیح موعود کی والدہ ماجدہ حضرت چراغ بی بی صاحبہ کی وفات کے بعد تو گویا وہ گھر کی مختارِ کُل ہو گئی تھیں اور ایک رنگ میں خاندان پر حکومت کرتی تھیں۔
حضرت مسیح موعود بھی اسی خاندان کے فرد تھے اور اسی ماحول میں اور ان روایات کے مطابق ہی پروان چڑھے تھے اس لیے آپؑ کا سلوک بھی اپنی زوجہ اوّل کے ساتھ مثالی تھا۔ آپ باوجود اس بات کے کہ دنیاداری کے کاموں میں آپ کو کوئی شغف نہ تھا اور اپنا سارا وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارنا آپ کے دل کی تمنّا اور آپ کا معمول تھا، اپنی زوجہ کا ہر ممکن حد تک خیال رکھتے تھے اور اس اَمر کے باوصف کہ آپ کی زوجہ اوّل دیگر رشتہ داروں کی طرف زیادہ میلان رکھتی تھیں اور اس طرح حضور کے ساتھ ان کی اس رنگ میں ذہنی ہم آہنگی اور موافقت نہ تھی لیکن پھر بھی حضور ان کے ساتھ محبّت، نرمی اورملاطفت کے ساتھ پیش آتے اور ان کا خیال رکھتے تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اس زمانہ میں شرفاء کے خاندانوں میں رواج تھا کہ مرد عام طور پر مردانے میں رہتے تھے اسی طریق کے مطابق حضور بھی مردانے میں ہی رہتے تھے لیکن اپنی زوجہ اوّل کی خاطر آپ نے زنانہ گھر میں مردانے کا دروازہ بنوایا تاکہ وہ آپ سے سہولت کے ساتھ رابطہ کر سکیں اور مل سکیں۔
اپنی زوجہ کے ساتھ حضور کا سلوک خاندانی ماحول اور روایات کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ اس وجہ سے اور بھی زیادہ بہتر اور زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے کہ حضور اپنے ایمان کی رُو سے یہ بات ضروری سمجھتے تھے کہ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے کیونکہ یہ خدا کی تعلیم اور رسول اکرمﷺ کی سنّت ہے۔ اور جیسا کہ حضور خود فرماتے ہیں کہ ؎
من تربیت پذیر ز ربّ مہیمنم
آپ کی تربیت خداتعالیٰ نے خود فرمائی اس لیے آپ کے سلوک میں اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی نسبت زیادہ ملائمت اور زیادہ حُسن نظر آتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ حضورؑ کی دوسری شادی کے بعد بھی جو حضور کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر کرنا پڑی تھی حضور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہے اور ان کے اخراجات وغیرہ باقاعدہ ادا فرماتے رہے۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم والا واقعہ پیش آگیا جس میں حضور کے رشتہ داروں نے حضور سے اپنے تعلقات ختم کر لئے اور آپ کی زوجہ اوّل نے بھی قطع تعلقی میں اپنے دیگر رشتہ داروں کا ساتھ دیا۔ لیکن ان کی طرف سے مخالف رشتہ داروں کا ساتھ دینے کے باوجود بھی حضور نے حضرت امّاں جانؓ کے توسّط سے ان کے ساتھ حسن سلوک کا سلسلہ جاری رکھا۔ چنانچہ حضرت امّاں جانؓ بیان فرماتی ہیں کہ ‘‘ایک دفعہ مرزا سلطان احمد صاحب کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی میں انہیں دیکھنے کے لئے گئی۔ واپس آ کر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا … تو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ جا کر دے آئو۔ حضرت امّاں جانؓ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارۃً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں … اپنی طرف سے … کچھ مدد کر دیا کروں’’۔
(سیرت المہدی حصہ اوّل روایت نمبر42)
رشتہ داروں کی طرف سے قطع تعلقی کے بعد کی بات ہے۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ اپنی کتاب ذکرِحبیب میں تحریر فرماتے ہیں: ‘‘جبکہ میں ہنوز جموں میں ملازم تھا۔ حضرت مسیح موعود کا ایک خط میرے نام قادیان سے آیا کہ مرزا فضل احمد صاحب جموں میں محکمہ پولیس میں ملازم ہے۔ بہت دنوں سے گھر میں اس کا کوئی خط نہیں آیا اور اس کی والدہ بہت گھبرا رہی ہے۔ آپ اس کا حال اور خیریت دریافت کر کے بواپسی ڈاک ہمیں اطلاع دیں۔ پھر دوسری دفعہ بھی ایسا ہی ایک خط آیاتھا اور ہر دو دفعہ حال دریافت کر کے لکھا گیا۔ یہ غالباً 1893-94ء کا واقعہ ہے’’۔ (ذکر حبیب صفحہ 21,20)
حضرت اُمّ المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگمؓ کے ساتھ حضور کی شادی خاص الٰہی تحریک اور منشاء کے تحت ہوئی چنانچہ حضورؑ فرماتے ہیں کہ الہام ہوا ‘‘مَیں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔ یہ سب سامان مَیں خود ہی کروں گا اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی’’۔
(شحنۂ حق، روحانی خزائن جلد2صفحہ 383)
نیز فرماتے ہیں کہ ‘‘مَیں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں تب یہ الہام ہوا کہ:
ہر چہ باید نو عروسی را ہمہ ساماں کنم
و آنچہ درکار شما باشد عطائے آں کنم
یعنی جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہوگا تمام سامان اس کا مَیں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتاً فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا’’۔
(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد22صفحہ247)
1881ء میں ہونے والے ان الہامات کے مطابق دہلی کے ایک شریف اور مشہور خاندانِ سادات میں آپ کی شادی ہو گئی اور 1884ء میں حضرت امّاں جان دلہن بن کر قادیان تشریف لے آئیں۔ حضرت امّاں جان کے ساتھ اس شادی کے بعد حضورؑ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ 1884ء کا سال ہی وہ سال ہے جس میں حضور نے اپنے دعویٰ مجددیت کا اعلان فرمایا اور اس لحاظ سے بھی کہ یہ شادی خداتعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم پر ہوئی تھی اور جس سے شادی ہوئی تھی اس کے بارہ میں خداتعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ‘‘اُشکُر نِعْمَتِی رَئَیْتَ خَدِیْجَتی’’ کہ میرا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا۔ اس حکمِ الٰہی کی تعمیل میں حضور کا سلوک حضرت امّاں جان کے ساتھ اور بھی نمایاں اور مثالی اور حد درجہ محبت اور دلداری کا حامل ہوتا تھا۔ اور چونکہ آپؑ کو یہ احساس تھا کہ آپ کی زندگی کے اس مبارک دور کے ساتھ حضرت امّاں جان کو ایک نسبتِ خاص ہے اس لئے آپ ان کے ساتھ معمول سے بہت بڑھ کر محبّت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ اور اس بات کا احساس حضرت امّاں جان کو بھی تھا۔ چنانچہ آپ بھی ایک حق کے رنگ میں اور محبّت کے انداز میں بہت ناز کے ساتھ حضور سے کہا کرتی تھیں کہ میرے آنے کے ساتھ ہی یہ برکتیں آپ کی زندگی میں آئیں اور حضرت مسیح موعود بھی مسکراتے اور اس پر صاد کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی فرماتے ہیں: اس زمانہ میں ایک جوڑا بابرکت ہوا جو خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے لئے چنا۔ آپ کو خداتعالیٰ نے شادی سے پیشتر اس شادی کے بابرکت ہونے کی اطلاع الہام کے ذریعہ دی۔ اس خاندان کے بابرکت ہونے کی خبر دی اور پھر فرمایا: یٰآدمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔ یہ شادی کی طرف ہی اشارہ تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ جیسے اس آدم کے لئے جنّت تھی اسی طرح تیرے لئے بھی جنّت ہے۔ مگر اُس حوّا نے تو آدم کو جنّت سے نکلوایا تھا۔ لیکن یہ حوّا جنّت کا موجب ہوگی۔
مجھے خوب یاد ہے اس وقت تو بُرا محسوس ہوتا تھا لیکن اب اپنے زائد علم کے ماتحت اس سے مزا آتا ہے۔ اس وقت میری عمر بہت چھوٹی تھی مگر یہ خدا کا فضل تھا کہ باوجودیکہ لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ نہ تھی جب سے ہوش سنبھالی حضرت مسیح موعودپر کامل یقین اور ایمان تھا۔ اگر اس وقت والدہ صاحبہ کوئی ایسی حرکت کرتیں جو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود کی شان کے شایان نہ ہوتی تو میں یہ نہ دیکھتا کہ ان کا میاں بیوی کا تعلق ہے اور میرا ان کا ماں بچہ کا تعلق ہے بلکہ میرے سامنے پیر اور مرید کا تعلق ہوتا حالانکہ میں بھی حضرت مسیح موعود سے کچھ نہ مانگتا تھا۔ والدہ صاحبہ ہی میری تمام ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔ باوجود اس کے والدہ صاحبہ کی طرف سے اگر کوئی بات ہوتی تو مجھے گراں گزرتی۔ مثلاً خدا کے کسی فضل کا ذکر ہوتا تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے کم از کم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتا گراں گزرتا۔ مَیں اسے حضرت مسیح موعود کی بےادبی سمجھتا لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود بھی اس فقرہ سے لذّت پاتے تھے کیونکہ وہ برکت اسی الہام کے تحت ہوئی کہ یٰآدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ۔ ایک آدم تو نکاح کے بعد جنّت سے نکالا گیا تھا لیکن اس زمانہ کے آدم کے لئے نکاح جنّت کا موجب بنایا گیا ہے۔ چنانچہ نکاح کے بعد ہی آپ کی ماموریت کا سلسلہ جاری ہوا۔ خداتعالیٰ نے بڑی بڑی عظیم الشان پیشگوئیاں کرائیں اور آپ کے ذریعہ دنیا میں نور نازل کیا اور اس طرح آپ کی جنّت وسیع ہوتی چلی گئی۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے آدم کے لئے جو جوڑا منتخب کیا گیا وہ صرف جسمانی لحاظ سے تھا مگر اس آدم کے لئے جو چنا گیا یہ روحانی لحاظ سے بھی تھا اور سول کریمﷺ نے فرمایا ہے اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَۃٌ۔ ارواح میں ایک دوسرے سے نسبت ہوتی ہے جب ایسی ارواح مل جائیں تو ان کے جوڑے بابرکت ہوتے ہیں۔
(خطبات محمود جلد سوم صفحہ 245,246)
یہ بات کہ حضرت مسیح موعود حضرت امّاں جان کے ساتھ ایک خاص تعلق جو کامل محبّت اور کامل یگانگت پر مبنی تھا رکھتے تھے اس کاعلم گھر کے ماحول تک محدود نہ تھا۔ بلکہ آپ کے زمانہ میں احبابِ جماعت پوری طرح اس سے آگاہ تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کا اپنی بیوی کے ساتھ کسی گھریلو معاملہ پر کچھ اختلاف ہوگیا اور حضرت مفتی صاحبؓ اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوئے۔ مفتی صاحب کی بیوی نے ا س ناراضگی کا ذکر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی بیوی کے ساتھ کیا۔ حضرت مولوی عبدالکریم بہت معاملہ فہم بھی تھے اور آپ کی طبیعت میں مزاح بھی تھا۔ آپ نے اس بارہ میں اپنی بیوی سے سن کر مفتی صاحب سے فرمایا ‘‘مفتی صاحب جس طرح بھی ہو اپنی بیوی کو منا لیں۔ کیا آپ جانتے نہیں کہ آج کل ملکہ کا راج ہے’’۔ حضرت مولوی عبدالکریم کا اشارہ اس طرف تھا کہ جہاں ہندوستان پر ایک عورت ملکہ وکٹوریہ کی حکومت ہے وہاں حضرت مسیح موعود بھی گھریلو معاملات میں حضرت اماں جان کی بات مانتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب بھی حضرت مولوی صاحب کے اس پُرحکمت اور پُر مزاح کلام کو سمجھ گئے اور جا کر اپنی بیوی کو منا لیا اور اس طرح گھریلو ماحول خوشگوار ہو گیا۔
(ذکر حبیب طبع جدید صفحہ 253مولفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ)
حضرت مسیح موعود کا حضرت امّاں جان کے ساتھ سلوک اس زمانہ کے دستور اور ماحول کے اس قدر مخالف تھا کہ بقول حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓ:
‘‘اس بات کو اندرون خانہ کی خدمتگار عورتیں جو عوام الناس سے ہیں اور فطری سادگی اور انسانی جامہ کے سوا کوئی تکلف اور تصنع کی زیرکی اور استنباطی قوت نہیں رکھتیں بہت عمدہ طرح محسوس کرتی ہیں۔ وہ تعجب سے دیکھتی ہیں اور زمانہ اور اپنے گردوپیش کے عام عُرف اور برتائو کے بالکل برخلاف دیکھ کر بڑے تعجب سے کہتی ہیں اور مَیں نے بارہا انہیں خود حیرت سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ‘مِرجا بیوی دی گل بڑی مندا ہے’’۔ (یعنی مرزاصاحب اپنی بیوی کی بات بہت مانتے ہیں)۔
(سیرت حضرت مسیح موعود ؑاز مولانا عبدالکریم سیالکوٹی صفحہ17)
دراصل حضورؑ کی دوسری شادی خدا کی خاص تقدیر اور حکمت کے تحت اللہ تعالیٰ نے کرائی تھی۔ 1882ء میں ماموریت کے اعلان اور 1884ء میں مجددیّت کے دعویٰ کے ساتھ حضورؑ کی زندگی میں جو موڑ آیا تھا اس کا تقاضا تھا کہ آپ کو ایک ایسی رفیقۂ حیات ملے جو اس اہم ذمہ داری میں آپ کا قدم بقدم ساتھ دے سکے اور اس ذمہ داری کو وہی خاتون ادا کر سکتی تھیں جن کی تربیت خداتعالیٰ کے خاص منشاء کے تحت کی گئی ہو۔ اسی غرض سے اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کا انتخاب فرمایا۔ آپ کی پیدائش 1865ء کی ہے۔ گویا حضورؑ سے شادی کے وقت آپ کی عمر اٹھارہ انیس سال سے زیادہ نہ تھی۔ اور یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان کچھ سیکھ سکتا ہے۔ نئے حالات میں اپنے آپ کو ڈھال سکتا ہے۔ اور اس طرح آپ حضورؑ کے پاس ایسی عمر میں آئیں کہ حضورؑ کی زیرِ تربیت رہ کر آپ کی فطری خوبیوں نے پوری طرح نشوونما پائی اور آپ ان ذمہ داریوں کو احسن رنگ میں ادا کرنے کی اہل ثابت ہوئیں جو ایک نبی کی زوجہ مطہرہ کی حیثیت میں آپ پر عائد ہونے والی تھیں۔
انبیاء علیہم السلام کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہوتا ہے کہ ان کا ہر فعل اور ہر قول خدا کے حکم اور خدا کے منشاء کے مطابق اور ماتحت ہوتا ہے۔ یہی کیفیت حضرت مسیح موعود کی ہے۔ چنانچہ بیوی کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: ‘‘ہمیں تو کمال بےشرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ ہم کو خدا نے مرد بنایا اور یہ درحقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے۔ اس کا شکریہ ہے کہ عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتائو کریں’’۔
(سیرت حضرت مسیح موعو د ؑ صفحہ400از یعقوب علی عرفانی)
پھر فرماتے ہیں: ‘‘فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں’’۔
(سیرت حضرت مسیح موعودؑ صفحہ 400 از حضرت یعقوب علی عرفانیؓ)
اس سلسلہ میں آپ کا عملی نمونہ کیا تھا؟ اس کا علم ذیل کے واقعہ سے ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص کی سخت مزاجی اور بدکلامی کا ذکر ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔ حضور اس بات سے بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمایا ‘‘ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے’’۔
پھر اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ‘‘میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ مَیں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور مَیں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے۔ اور بایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔ اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الٰہی کا نتیجہ ہے’’۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 307)
بات عملی نمونہ کی ہو رہی ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ اور سن لیں۔ بظاہر بہت معمولی ہے لیکن اگر ہم میں سے ہر ایک اس واقعہ میں بیان شدہ حضور کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرے تو ہمارے عائلی تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہیں۔ حضرت امّاں جان نے خود یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔ آپ فرماتی ہیں: ‘‘مَیں پہلے پہل جب دلّی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود گُڑ کے میٹھے چاول پسند فرماتے ہیں چنانچہ میں نے بہت شوق اور اہتمام سے میٹھے چاول پکانے کا انتظام کیا۔ تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چارگنا گُڑ ڈال دیا۔ سو وہ بالکل راب سی بن گئی۔ جب پتیلی چولہے سے اتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ ادھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔ حیران تھی کہ اب کیا کروں۔ اتنے میں حضرت صاحبؑ آگئے۔ میرے چہرہ کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سا بنا ہوا تھا۔ آپؑ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟ پھر فرمایا۔ نہیں! یہ تو بہت اچھے ہیں میرے مزاج کے مطابق پکے ہیں۔ ایسے زیادہ گُڑ والے ہی تو مجھے پسندیدہ ہیں۔ یہ تو بہت ہی اچھے ہیں اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔ حضرت اُمّ المومنین فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کی اتنی باتیں کہیں کہ میرا دل بھی خوش ہو گیا’’۔
(سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ صفحہ 226,225)
بات کھانا پکانے کی آئی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کا ذکر بھی کر دیا جائے کہ حضورؑ کے دعویٰ کے بعد ایک لمبے عرصے تک باوجود اس کے کہ آنے والے مہمانوں کی کثرت ہوگئی تھی اور روزانہ ہی بہت بڑی تعداد میں مہمان تشریف لاتے تھے۔ کھانا حضرت مسیح موعود کے گھر میں ہی حضرت امّاں جانؓ کی زیرنگرانی پکایا جاتا تھا اور حضرت امّاں جانؓ نہ صرف یہ کہ اس انتظام کی نگرانی فرماتی تھیں بلکہ خود بھی مہمانوں کے لئے کھانا پکایا کرتی تھیں۔ چنانچہ آپ بیان فرماتی ہیں کہ: ‘‘پہلے لنگر کا انتظام ہمارے گھر میں ہوتا تھا اور گھر سے سارا کھانا پک کر جاتا تھا۔ مگر جب آخری سالوں میں زیادہ کام ہو گیا تو مَیں نے کہہ کر باہر انتظام کرا دیا’’۔ نیز فرماتی ہیں کہ ‘‘شروع میں سب لوگ لنگر سے ہی کھانا کھاتے تھے خواہ مہمان ہوں یا یہاں مقیم ہو چکے ہوں۔ مقیم لوگ بعض اوقات اپنے پسند کی کوئی خاص چیز اپنے گھروں میں بھی پکا لیتے تھے مگر حضرت صاحب کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اگر ہوسکے تو ایسی چیزیں بھی ان کے لئے آپ ہی کی طرف سے تیار ہو کر جاویں اور آپ کی خواہش رہتی تھی کہ جو شخص جس قسم کے کھانے کا عادی ہو اس کو اسی قسم کا کھانا دیا جا سکے’’۔
(سیرت المہدی جلد نمبر 1 صفحہ 52,51)
حضرت منشی فیاض علی صاحب کپورتھلوی اس زمانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ‘‘حضرت اقدس دستِ مبارک سے زنانہ مکان سے کھانا لے آتے اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر تناول فرماتے تھے’’۔
(سیرت المہدی جلد 3صفحہ 219)
حضرت ڈاکٹر میرمحمداسماعیل صاحبؓ ابتدائی ایام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ‘‘لنگر کا انتظام حضورؑ کے ابتدائی ایام میں گھر میں ہی تھا۔ گھر میں دال سالن پکتا اور لوہے کے ایک بڑے توے پر جسے لوہ کہتے ہیں روٹی پکائی جاتی پھر باہر مہمانوں کو بھیج دی جاتی۔ اس لوہ پر ایک وقت میں دو تین نوکرانیاں بیٹھ کر بہت سی روٹیاں یک دم پکا لیا کرتی تھیں’’۔ (سیرت المہدی جلد 3صفحہ 283)
مزید فرماتے ہیں ‘‘ابتدا میں قادیان کے سب احمدی لنگر سے کھانا کھاتے تھے’’۔ (باقی آئندہ)
