تقویٰ اور خداترسی علم سے پیدا ہوتی ہے۔ جیساکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاءُ (فاطر:29) یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم خشیت اللہ کو پیدا کر دیتا ہے اور خداتعالیٰ نے علم کو تقویٰ سے وابستہ کیا ہے کہ جو شخص پورے طور پر عالم ہوگا اس میں ضرور خشیت اللہ پیدا ہوگی۔ علم سے مراد میری دانست میں علم القرآن ہے۔ اس سے فلسفہ، سائنس یا اور علوم مروّجہ مراد نہیں کیونکہ ان کے حصول کے لئے تقویٰ اور نیکی کی شرط نہیں بلکہ جیسے ایک فاسق فاجر ان کو سیکھ سکتا ہے ویسے ہی ایک دیندار بھی۔ لیکن علم القرآن بجز متقی اور دیندار کے کسی دوسرے کو دیا ہی نہیں جاتا۔
(الحکم 17 جنوری 1906ء صفحہ 4)
