ڈھونڈو وہ راہ جس سے دل و سینہ پاک ہو
نفسِ دَنی خدا کی اطاعت میں خاک ہو
وہ رَہ جو ذاتِ عزّوجل کو دِکھاتی ہے
وہ رَہ جو دِل کو پاک و مطہّر بناتی ہے
تم دیکھتے ہو قوم میں عِفّت نہیں رہی
وہ صدق ، وہ صفا ، وہ طہارت نہیں رہی
مومن کے جو نشاں ہیں وہ حالت نہیں رہی
اُس یارِ بےنِشاں کی محبت نہیں رہی
کیوں اب تمہارے دِل میں وہ صِدق و صَفا نہیں
کیوں اِس قدر ہے فِسق کہ خوف و حیا نہیں
کیوں زندگی کی چال سبھی فاسقانہ ہے
کچھ اِک نظر کرو کہ یہ کیسا زمانہ ہے
اِس کا سبب یہی ہے کہ غفلت ہی چھا گئی
دُنیائے دُوں کی دِل میں محبّت سَما گئی
پر وہ سعید جو کہ نشانوں کو پاتے ہیں
وہ اُس سے مل کے دل کو اسی سے ملاتے ہیں
(انتخاب از درِثمین، ‘‘محاسن قرآن کریم ’’)
