محترمہ امۃ الباری ناصر صاحبہ حال امریکہ

 

داداجان کی وفات پر حسنِ سلوک
ہمارے داداجان حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ ہرسیاں والے جو حضرت مسیح موعود کے قدیم اور مخلص صحابی تھے، مؤرخہ 7 نومبر 1956ء بروزبدھ ڈیڑھ بجے بعد دوپہر وفات پاگئے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر نوّے سال تھی۔ اباجان دو روز پہلے داداجان کا پیغام ملنے پر کہ آکے مل لو، قادیان سے تشریف لائے ہوئے تھے اور داداجان کے آخری وقت میں موجود تھے۔ اباجان کی خواہش تھی کہ جنازہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی پڑھائیں جو اُس وقت جابہ میں مقیم تھے۔ اباجان حضرت میاں صاحبؓ سے ملےاور اپنی درخواست پیش کی کہ جنازہ حضور پڑھائیں۔ آپؓ نے فرمایا کہ بہت سوچا ہے مگر اطلاع کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ تار اور ٹیلیفون کوئی بھی سہولت میسر نہیں ہے۔ مولاکریم نے اباجان کی خواہش پوری کرنے کا غیب سے سامان کیا۔ لاہور سے ہماری پھوپھی جان مکرمہ صالحہ بیگم اپنے بیٹے مکرم سمیع اللہ (شفامیڈیکوز لاہور) کے ساتھ کار میں تشریف لائیں۔ اباجان حضرت میاں صاحبؓ کے پاس گئے اور عرض کیا کہ کار میسر آگئی ہے۔ آپ مشورہ دیں کہ میں والدصاحب کا جنازہ وہاں لے جاؤں یا صرف اطلاع دے آؤں۔ آپ نے فرمایا جنازہ کہاں پہاڑوں میں لئے پھرو گے، میں چٹھی لکھ دیتا ہوں آپ اطلاع دے آئیں۔ چنانچہ اباجان اپنے داماد مکرم شیخ خورشیداحمد صاحب کے ساتھ جابہ گئے۔ آپؓ نے تحریر فرمایا تھا:
‘‘امید ہے حضور بخیریت ہوں گے۔ آج تقریباً پونےدو بجے میاں فضل محمد صاحبؓ ہرسیاں فوت ہوگئے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم بہت پرانے صحابی تھے اور بہت مخلص بھی، ان کی وصیت کا نمبر 102 تھا۔ گویا وصیت میں بھی بہت پرانے تھے۔ ان کے تین لڑکے سلسلہ کی خدمت میں ہیں۔ ایک مولوی عبدالغفور صاحب دوسرے صالح محمد صاحب جو مغربی افریقہ میں ہیں۔ اور تیسرے میاں عبدالرحیم صاحب جو قادیان میں درویش ہیں۔ مرحوم کی اولاد کی دِلی خواہش ہے کہ اگر حضور نے کل تشریف لےآنا ہو تو حضور ان کا جنازہ پڑھا کر ممنون فرماویں۔ لہٰذا اگر واپسی کا پروگرام طے نہ ہو تو اس سے مطلع فرمایا جائے۔ ان کی حالت ایسی ہے کہ غالباً کل سہ پہر یا عصر تک ان کا جنازہ رکھا جا سکتا ہے۔ ہاں یاد آیا مرحوم کے ایک بچہ کا داماد خورشیداحمد بھی الفضل میں کام کرتے ہیں اور سلسلہ کے مخلص کارکن ہیں۔فقط۔ والسلام۔خاکسار مرزا بشیر احمد ’’
اللہ نے فضل فرمایا اور حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے 8؍نومبر کو پانچ بجے شام جابہ سے ربوہ تشریف لا کر جنازہ پڑھایا۔ اس سے پہلے طویل ذکرِخیر فرمایا جس میں اہلِ ربوہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ نمازِجنازہ غیرمعمولی طور پر لمبی پڑھی پھر موجود بیٹوں سے تعزیت فرمائی اور ان کے حالات دریافت فرماتے رہے۔ مرحوم کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں صحابہ کے قطعہ خاص میں سپردِخاک کیا گیا۔ حضرت مرزا بشیراحمد صاحب ؓنے بھی جنازہ کو کندھا دیا۔
قادیان میں چوبیسواں صحابی
صحابی کی تعریف میں د لچسپ اختلاف
اس وقت قادیان میں ایک صاحب میاں عبدالرحیم صاحب برادر مولوی عبدالغفور صاحب مبلغ جماعت احمدیہ ہیں۔ میاں عبدالرحیم صاحب کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود نے ہی ان کا نام رکھا تھا۔ اور حضرت مسیح موعود نے ان کو دیکھا بھی تھا۔ لیکن خود میاں عبدالرحیم صاحب کو حضرت مسیح موعودؑ کا دیکھنا یاد نہیں۔ ان حالات میں گو میری تعریف کے مطابق وہ صحابی نہیں بنتے لیکن بعض گزشتہ علماء کی تعریف کے مطابق وہ صحابی بن جاتے ہیں۔ ان علماء کی تعریف یہ ہے کہ صحابی وہ ہے جسے اس کے مومن ہونے کی حالت میں نبی نے دیکھا ہو۔ لیکن میرے نزدیک ‘‘صحابی وہ ہے جس نے اپنے مومن ہونے کی حالت میں نبی کو دیکھا یا اس کا کلام سنا ہو’’۔
بہرحال یہ ایک قدیم اختلافی مسئلہ ہے اور حقیقت یہ ہے (اور یہ ایک حد تک طبعی امر ہے) کہ جوں جوں نبی کے زمانہ سے دوری ہوتی جاتی ہے لوگ فطرتاً صحابی کی تعریف میں نرمی کا طریق اختیار کرتے جاتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس پاک گروہ میں شامل کر کے اپنے لیے برکت اور رحمت کا موجب بنائیں۔ چنانچہ زمانۂ نبوت اور قرب زمانہ نبوت میں صحابی کی تعریف عموماًیہ کی جاتی رہی ہے کہ ‘‘صحابی وہ ہے کہ جس نے نبی کا زمانہ پایا۔ اس کی بیعت سے مشرف ہوا اسے دیکھا (یا اس کا کلام سنا) اور اس کی صحبت سے مستفیض ہوا’’۔ اس کے بعد وہ درمیانی تعریف آتی ہے جو میں کرتا ہوں یعنی ‘‘صحابی وہ ہے جس نے اپنے مومن ہونے کی حالت میں نبی کو دیکھا یا اس کا کلام سننا یاد ہو’’۔ اور تیسرے درجہ پر (جو دراصل زمانہ نبوت کے بعد سے تعلق رکھتا ہے) یہ تعریف آتی ہے کہ ‘‘صحابی وہ ہے جسے اس کے مومن ہونے کی حالت میں نبی نے دیکھا ہو خواہ اسے خود نبی کو دیکھنا یاد نہ ہو’’۔ اس کے علاوہ بعض اور تعریفیں بھی کی گئی ہیں اور شاید اپنے اپنے وقت کے لحاظ سے اکثر تعریفیں درست سمجھی جا سکتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میرا ذاتی رجحان اوپر کی تین تعریفوں میں سے درمیانی تعریف کی طرف زیادہ ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو اس میں پہلی تعریف والی تنگی نہیں ہے اور دوسری طرف اس میں تیسری تعریف والی حد سے زیادہ وسعت بھی نہیں جس میں گویا ‘‘صحبت’’ والا مفہوم جو اصل مرکزی چیز ہے خارج ہوجاتا ہے، واللہ اعلم۔
خاکسار مرزابشیراحمد رتن باغ لاہور 4 فروری 1950ء
(الفضل 5فروری 1950ء صفحہ نمبر 2)
اپنائیت اور شفقت کے انداز
خط میں کس قدر اپنائیت ہے سوچتی ہوں جب اباجان کو یہ خط ملا ہوگا تو کیسے حمدوشکر میں ڈوبے ہوں گے۔
مکرم میاں عبدالرحیم صاحب درویش سوڈاواٹرفیکٹری
السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ
کل اچانک آپ کا خط موصول ہوا جس میں عزیز میاں ناصراحمد کے بچہ کی پیدائش پر مبارکباد لکھی تھی۔ جزاکم اللہ خیراً۔ میں نے عزیز میاں ناصراحمد والا خط اُنہیں بھجوا دیا ہے اور حضرت امّاں جان والااُن کی خدمت میں بھجوا دیا ہے۔
عجیب اتفاق ہے کہ جس دن آپ کا یہ خط آیا اسی دن میں یہ خیال کر رہا تھا کہ ایک عرصہ سے آپ کا خط نہیں آیا۔
والسلام
مرزا بشیر احمد
23-3-1950
ربوہ میں مکان بنانے کا مشورہ
ربوہ آباد ہوا۔ زمین کی قطعہ بندی کے بعد فروخت کا سلسلہ شروع ہوا۔ بےسروسامانی کا زمانہ تھا، قوتِ خرید مفقود تھی تاہم خواہش تھی کہ اس بستی میں اپنا مکان ہو۔ میری امی جان اور بڑی بہن آپالطیف نے حضرت مرزا بشیراحمدصاحبؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ہم رقم اُدھار لے کر زمین خریدنا چاہتے ہیں مگرفی الحال تعمیر مشکل ہوگی۔ اس پر آپؓ نے فرمایا فکر نہ کریں آپ زمین لے لیں مکان بھی بن جائے گا اور پھر فرمایا کہ آپ لوگ مجھے گارا بنا دینا میں اینٹیں لگاؤں گا اور یوں ایک درویش کے اہل وعیال کا مکا ن انشاءاللہ بن جائے گا۔ یہ آپؓ کی دعائیں ہی تھیں کہ ہم ایک کنال زمین لے کر کچی اینٹوں سے دو کمرے بنا کر دارالخواتین سے اس میں منتقل ہوگئے۔ اس کا نام ‘‘راحت منزل’’ رکھا گیا۔ یہ وہی نام تھا جو اباجان کی درخواست پر حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے قادیان میں مکان کے لئے عطا فرمایا تھا۔
تبرک میں مقدار کا سوال نہیں ہوتا
ابتدائی درویشی کے زمانے میں اباجان نے مکرم جناب حفیظ خان صاحب (ویرووال) کے ہاتھ حضرت صاحبزادہ مرزابشیراحمد صاحبؓ کے لئے لنگرخانہ کی روٹیوں اور دارالحمد کی لوکاٹ کا تحفہ بھجوایا۔ ساتھ رقعہ لکھا کہ تبرک قبول فرما کر دُعاؤں سے نوازیں اور کچھ میرے گھر میں اپنے ہاتھ سے بھجوا دیں، اُن کے لئے دُہرا تبرک ہو گا۔ حضرت میاں صاحبؓ کا بہت اچھا جواب ملا۔ آپ نے لکھا چند روٹیاں اور تھوڑی لوکاٹ آپ کے گھر بھجوا دی ہیں، کچھ لوکاٹ راستہ میں خراب ہوئیں کچھ بارڈر والوں نے تبرک سمجھ کر رکھ لی۔ جو کچھ حصے میں آیا بھجوا دیا۔ تبرک میں مقدار کا سوال نہیں ہوتا۔ سبحان اللہ کیا علم و معرفت کا نکتہ ہے۔ آپ نے ہمیں تبرک بھجواتے وقت جو مکتوب تحریر فرمایا وہ بھی ہمارے پاس محفوظ ہے۔
عزیزہ مکرمہ امۃاللطیف صاحبہ
السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ
امید ہے آپ کی والدہ صاحبہ خیریت کے ساتھ ربوہ واپس پہنچ چکی ہوں گی۔ کل شام کو عبدالحفیظ خاں صاحب جو دو دن کے پرمِٹ پر قادیان گئے تھے، واپس پہنچے ہیں۔ ان کے ہاتھ آپ کے والدصاحب نے تین روٹیاں لنگرخانہ کی اور کچھ لوکاٹ اور ایک دیگچی اور کچھ کپڑے بھجوائے ہیں۔ روٹیاں میں نے احتیاطاً خشک کرا لی ہیں تاکہ بُس نہ جائیں اور زیادہ دیر تک رہ سکیں۔ میں حاملِ ہٰذا کے ہاتھ آپ کو لوکاٹ اور روٹیاں بھجوا رہا ہوں۔ باقی چیزیں عبدالحفیظ صاحب چند دن تک خود اپنے ساتھ لائیں گے شاید ایک دو کپڑے غلام قادر صاحب و عطاءاللہ صاحب ولدسراج الدین صاحب مؤذن کے بھی ہیں بہرحال یہ سب چیزیں عبدالحفیظ خاں صاحب کے پاس ہی ہیں وہی آپ کو پہنچائیں گے۔ مَیں صرف تین عدد روٹیاں اور کچھ لوکاٹ بھجوا رہا ہوں۔ لوکاٹ کچھ زیادہ تھے۔ مگر بارڈر پر آ کر روک لیا گیا۔ تفصیل غالباً آپ کے والدصاحب نے بھی آپ کو لکھ دی ہوگی۔ آپ کے کپڑوں میں شاید ایک تھان بھی ہے۔ والسلام مرزا بشیر احمد 3-5-1950
رنجیت کے معنی فاتح
1952ء میں اباجان نے ایک خواب دیکھا کہ سب درویش ہرسیاں اور دیال گڑھ کے درمیان ایک مستطیل کمرے کے اردگرد خالی میدان میں جمع ہیں۔ وہاں شور ہو رہا ہے، اچانک لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ آ رہے ہیں اور بڑے ذوق وشوق سے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ آپ کمرہ کے مشرق کی طرف یعنی ہرسیاں کی طرف کھڑے ہیں، اتنے میں کمرہ کے جنوبی حصہ سے (جو کمرہ کی پشت ہے) مشرقی دیوارکے ساتھ جو بالکل سامنے ہے مہاراجہ رنجیت سنگھ آگئے۔ زرق برق شاہانہ لباس پر ہیرے جواہر لگے ہوئے۔ سلمہ ستارہ سے اَٹا ہوا لباس پہنے ہوئے سامنے آگئے۔ اباجان کے ایک ہاتھ میں مٹی کا پیالہ ہے جس میں لنگر کی دال ہے اور دوسرے میں لنگر کی روٹی ہے۔ دیکھا تو وہ شاہانہ لباس میں ملبوس حضرت مرزا ناصراحمدصاحبؒ ہیں اور اباجان کے ساتھ لنگرخانے کا کھانا کھانے بیٹھ گئے ہیں۔ آپ نے یہ خواب اپنے محسن حضرت مرزابشیراحمد صاحبؓ کو تحریر کیا اور انہوں نے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے حضور پیش کر دی۔ حضور نے اپنے دستِ مبارک سے اُس پر نوٹ فرمایا:
‘‘رنجیت کے معنی فاتح کے ہوتے ہیں’’۔
حضرت قمرالانبیاء نے اپنے دستِ مبارک سے یہ تعبیر نقل کر کے بھجوائی۔ یہ قیمتی مکتوب ابھی تک محفوظ ہے۔
مکرم میاں عبدالرحیم صاحب درویش!
السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ
آپ کا پوسٹ کارڈ ملا جس میں آپ نے اپنی ایک خواب لکھی تھی۔ سیدنا حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ کی خدمت میں بغرض ملاحظہ بھجوایا گیا۔ اس پر حضور نے مندرجہ ذیل ارشاد نوٹ کر کے ارسال فرمایا ہے کہ
‘‘رنجیت کے معنی فاتح کے ہیں’’
اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور حافظ و ناصر ہو۔
والسلام۔مرزا بشیر احمد
1826ء کی شائع شدہ انجیل
اباجان کو نئی پرانی کتابیں خریدنے کا جنون تھا۔ ایک دفعہ لدھیانہ کی ایک لائبریری والوں نے سینکڑوں پرانی کتب تلف کرنے کے لئے فروخت کے لئے رکھ دیں۔ اباجان ان میں سے کام کی کتب چھانٹ کر دو بوریاں بھر کر لے آئے۔ ان میں ایک انجیل تھی جو 1826ء کی شائع شدہ تھی۔ اباجان نے حضرت میاں صاحبؓ کو اس کے بارے میں لکھا۔ آپ کا جواب آیا کہ اگر اتنی پرانی انجیل ہے تو میرے لئے بھی خرید لیں۔ اباجان نے اس خط کو نعمت غیرمترقبہ خیال کیا اور بذریعہ رجسٹرڈ پارسل کتاب بھجوا دی۔ آپ کا دعاؤں اور شکریہ کا خط ملا، الحمدللہ۔
کتابوں سے محبت پر تحسین
اباجان کا کتب خریدنا، انہیں جِلد وغیرہ کرکے رتن باغ بھجوانا آسان کام نہیں تھا۔ اِکادُکا کتاب تو آنےجانے والوں کے ہاتھ آسکتی تھی۔ مگر جب زیادہ کتب محفوظ مقام پر پہنچانا ضروری ہوا تو بذریعہ ڈاک پارسل بھجوانے لگے جس پر بہت خرچ ہوتا۔ پہلی کوشش تو یہی ہوتی کہ اگر مالک کا علم ہوجائے تو کتاب اُس تک پہنچا دی جائے بصورتِ دیگرمحفوظ کرلی جائے۔ قادیان سے سب ڈاک دفتر خدمتِ درویشاں میں حضرت میاں صاحبؓ کی معرفت موصول ہوتی۔ جب پارسل سے کتب بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا تو حضرت میاں صاحبؓ نے اس کو مثال بنا کر جماعت کو توجہ دلائی کہ کتب بذریعہ پارسل بھیجی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ تحریر فرمایا:
مکرمی میاں عبدالرحیم صاحب سوڈا واٹرفیکٹری
السلام علیکم ورحمۃاللہ برکاتہ
آپ کا خط موصول ہوا۔ میں نے تو ہمدردی کے خیال سے لکھا تھا آگے آپ اپنے حالات کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کا حافظ وناصر رہے اور دنیاکی نعمتوں کا دروازہ کھولے۔ آپ کی کتابوں کے پارسل اس کثرت کے ساتھ آئے کہ مجھے طبعاً یہ خیال پیدا ہوا کہ آج کل تنگی کے زمانہ میں اتنے پارسلوں کا خرچ یقیناً بوجھ کا موجب ہوگا۔ گودوسری طرف میں نے اس مثال کو دیکھتے ہوئے یہ فائدہ بھی اُٹھایا کہ ملک صلاح الدین صاحب کو خط لکھا کہ اگر اس طرح پارسل آسکتے ہیں تو آپ کو بھی سلسلہ کی ضروری کتابیں بھجوانے میں اس طریق سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ بہرحال اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔
لاہور میں الحمدللہ خیریت ہے۔ آپ کے بچے کبھی کبھی ملتے رہتے ہیں اور خیریت سے ہیں۔ رمضان میں جو تعلیم القرآن کلاس لجنہ کی زیرِنگرانی جاری ہوئی تھی۔ اس میں آپ کی دونوں لڑکیاں شامل ہوئی تھیں۔ اور خدا کے فضل سے دونوں پاس ہو گئی ہیں۔
آپ کے والدصاحب اب کافی ضعیف ہوچکے ہیں اور قادیان کے کانوائے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اُن کے لئے یہی بابرکت ہے کہ اپنے بقیہ ایامِ زندگی قادیان میں گزاریں اور دعائوں اور نوافل کے پروگرام میں حصہ لیں۔
میری طرف سے سب دوستوں کو سلام پہنچا دیں۔فقط
والسلام، مرزا بشیر احمد
اباجان کی طرف سے ہماری امی جان کو ہدایت تھی کہ کسی بھی مسئلے میں مشورے کی ضرورت ہو تو حضرت میاں صاحبؓ کے پاس چلی جایا کریں۔ امی جان گھر سے کم نکلتی تھیں۔ بچوں سے خط لکھوا کر بھیج دیتیں لیکن بچوں کے رشتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے خود جاتیں۔ ہم پانچ بہنیں تھیں۔ امی جان بتاتی ہیں کہ جب بڑی بہن کا رشتہ طے ہوگیا تو آپؓ نے امی جان سے فرمایا ایک کی شادی ہوئی ہے اب آگے کا سوچیں۔ آپ کا تو یہ معاملہ ہے ‘اک مٹھی چک لے دوجی تیار’۔ حضرت میاں صاحبؓ کی شفقت تھی کہ زیارتِ قادیان کے لئے جانے والے قافلوں میں امی جان کو موقع دیتے اس طرح آپ کچھ دن اباجان کے پاس رہ آتیں۔ (جاری ہے)

 

متعلقہ مضمون

  • ہوا مَیں تیرے فضلوں کا منادی

  • جلسہ سالانہ کی اہمیت

  • پرواز بلند ہے جس کے تخیل کی