جماعت احمدیہ میں ایسے ذہین اور ہونہار نو جوان ہونے چاہئیں جن کی صحیح رنگ میں تربیت کی جائے اور وہ دین اسلام سے کما حقہ واقف ہوں اور حضرت مسیح موعود کی کتب پر ان کو عبور ہو اور وہ اس قابل ہوں کہ دنیا کا کوئی عالم ، خواہ وہ کسی سائنس یا علم سے تعلق رکھنے والا ہی کیوں نہ ہو جب ان سے بات کرے تو وہ اس بشارت کے مطابق اس کا منہ بند کرنے والے اور اسلام کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے والے ہوں۔ اس طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
(خطابات ناصر جلد دوم صفحہ 101)
