اِسلام سے نہ بھاگو راہِ ہدیٰ یہی ہے
اَے سونے والو جاگو! شمس الضّحٰی یہی ہے
سب خشک ہو گئے ہیں جتنے تھے باغ پہلے
ہر طرف مَیں نے دیکھا بُستاں ہرا یہی ہے
دُنیا میں اِس کا ثانی کوئی نہیں ہے شربت
پی لو تم اِس کو یارو! آبِ بقا یہی ہے
جو ہو مفید لینا جو بد ہو اُس سے بچنا
عقل و خِرَد یہی ہے فہم و ذکا یہی ہے
یہ سب نِشاں ہیں جن سے دیں اب تلک ہے تازہ
اَے گرنے والو دوڑو دیں کا عصا یہی ہے
بس اَے مِرے پیارو! عقبیٰ کو مت بسارو
اِس دیں کو پاؤ یارو بدر الدّجیٰ یہی ہے
اِسلام کے محاسن کیونکر بیاں کروں مَیں
سب خشک باغ دیکھے پُھولا پَھلا یہی ہے
لعلِ یمن بھی دیکھے دُرِّ عدن بھی دیکھے
سب جوہروں کو دیکھا دِل میں جچا یہی ہے

 

(انتخاب از درِثمین، ‘‘شانِ اسلام’’)

متعلقہ مضمون

  • سیّدنا حضرت مسیح موعود کی عائلی زندگی

  • دُنیائے دُوں کی دِل میں محبت سَما گئی

  • سیّدنا حضرت مسیح موعود کی عائلی زندگی

  • بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر