محترمہ امۃالباسط ایاز صاحبہ، لندن

حدیث نبویؐ ہے کہ جب کسی جگہ ذکرالٰہی کی بابرکت مجلس ہو تو فرشتے اس مجلس کو اپنے پروں تلے ڈھانپ لیتے ہیں اور اس میں شامل تمام لوگ اللہ کے افضال سے حصّہ پاتے ہیں یہاں تک کہ اس میں اتفاقاً شامل ہونے والا بھی فیض پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جماعت احمدیہ کو ایسی پاکیزہ اور بابرکت مجالس کے انعقاد کی توفیق ملتی رہتی ہے۔ اس میں سے ایک مجلس جلسہ سالانہ کی بھی ہے جو خداتعالیٰ کی تائیدونصرت اور جماعت کی روزافزاں ترقی کا ثبوت ہے۔ اس بابرکت جلسہ کی بنیاد حضرت مسیح موعودؑ نے خداتعالیٰ کے اِذن سے 1891ء میں رکھی۔ قادیان کی گمنام بستی میں منعقد ہونے والے اس ایک روزہ جلسہ میں شامل ہونے والے مخلصین کی تعداد 75 تھی۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں شامل ہونے والے عشاق کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے اور دنیا بھر کی قومیں اپنےاپنے علاقوں میں جلسہ کی برکات سے فیض یاب ہو رہی ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کے مطابق ہر قوم بِلاامتیاز رنگ ونسل اس چشمہ سے سیراب ہو رہی ہے۔ چنانچہ جہاں ان جلسوں کا انعقاد ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے وہاں بحیثیت فردِجماعت اپنے جائزے لینے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا ہم اس جلسہ کے اغراض اور اعلیٰ مقاصد سے بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جلسہ سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرماتا رہے، آمین۔
اب میں کچھ ان جلسوں کے حالات جو دیکھے اور سُنے ہیں اپنی یادداشت کو واپس لا کر قارئین کے لیے پیش کروں گی۔ ربوہ کے جلسہ سالانہ سے شروع کرتی ہوں جب مَیں خود بھی چھوٹی سی بچی تھی، ہم کچے مکانوں میں رہتے تھے۔ سال کے شروع ہوتے ہی ہمیں اپنے رشتہ داروں کا جو ربوہ سے باہر شہروں میں آباد تھے، اُن کا جلسہ پر آنے کا انتظار شروع ہو جاتا تھا۔ دسمبر کے آخر میں جلسہ کے ایام میں سردی اپنے جوبَن پر ہوتی، سکولوں میں بھی چھٹیاں ہوجاتی تھیں۔ مہمانوں کی آمد جلسہ سے ایک ہفتہ قبل شروع ہو جاتی اور ایک ہفتہ بعد تک مہمان داری رہتی تھی۔ ہماری اُمی جان مہمانوں کی خاطر اپنے گھر کو مہمان خانہ کی شکل میں بدلنے کے لئے تیاری شروع کر دیتیں۔ کمروں کی صفائی کی جاتی، سفیدی اور پینٹ وغیرہ کیا جاتا، کرسیوں کو صاف کیا جاتا، گھر میں جہاں مرمت کی ضرورت ہوتی وہ کروائی جاتی یا خود بھی کر لیتیں۔ بستروں کی چادریں اور کھڑکیوں کے پردے دھوبی کو دیئے جاتے یا بعض اوقات خود بھی محنت کرتیں اور اپنے ہاتھوں سے دھوتیں۔ سردی سے بچاؤ کے لئے رضائیاں تیار کی جاتیں۔ اس زمانہ میں ہیٹر دستیاب نہ تھے اس لئے اپنے ہاتھ سے مٹی کی چھوٹی چھوٹی انگیٹھیاں بنا کر تیار رکھتیں، کوئلوں کی بوری منگوا لیتیں تاکہ مہمانوں کو سردی سے بچایا جا سکے۔ وہ زمانہ گیزر(Geyser) کا بھی نہیں تھا اس لئے اُمّی جان علی الصبح سب سے پہلے لوہے کی انگیٹھی جو تھوڑی بڑی تھی، جلا کر بڑا دیگچا پانی کا بھر کر گرم ہونے کے لئے مہمانوں کے وضو کے لئے رکھ دیتیں۔ ہم بچوں کی ڈیوٹیاں تھیں کہ جب جب دیگچے میں پانی کم ہو ہم اُس کو بھرتے رہیں۔ سچ پوچھیں تو ہمیں یہ کام کرنا اتنا اچھا لگتا تھا اور اتنا سکون ملتا تھا جس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی ناشتے اور چائے کے لئے بھی دیگچہ چولہے پر چڑھا ہوتا تھا، چائے نکالنے کے لئے ایک مَگ ڈھکن پر رکھا ہوتا تھا۔ ہر مہمان خود ہی اپنے مگ بھر لیتے اور ٹوکرے سے حسب خواہش وضرورت رَسک لے کر پیچھے ہٹ جاتے۔ اس مختصر مگر منظّم ناشتہ کے بعدہم خوشی خوشی جلسہ پر جانے کے لئے اپنےاپنے بیجیز(Badges) لگا کر اُوپر موٹی سی چادر اوڑھ کر ڈیوٹی دینے چل پڑتے۔ اُس وقت اوورکوٹ(Overcoat) کا زمانہ نہیں تھا۔ ڈیوٹی دینے کا اتنا شوق ہوتا تھا کہ کبھی کبھار تو ناشتہ کرنا بھی بھول جاتے تھے لیکن یہ بہت ضروری ہوتا کہ جانے سے پہلے اُمی جان کو بتا کر جاتی کہ مَیں جلسہ پر جا رہی ہوں۔ کبھی کبھی اُمی جان پوچھ بھی لیتیں کہ جلدی کیوں جا رہی ہو گھر میں میری کچھ مدد کر کے جائیں تو میں معذرت کرتی اور کہتی کہ میری آپا اچھی امۃ اللہ خورشید صاحبہ مدیرہ مصباح نے کہا کہ جلدی آکر دفتر سے مصباح لے کر جانا اور پانی کی ڈیوٹی کرتے وقت تم تھیلا دوسرے کندھے پر ڈال کر مصباح بھی فروخت کرتی جانا اور شام کو مجھے حساب دے دیا کرنا۔ تھیلے سے ایک مصباح ہاتھ میں پکڑے رکھتی اور ساتھ مہمانوں کو پانی پلانے کی ڈیوٹی بھی دیتی اور اس ڈیوٹی دینے میں کتنا مزا آتا تھا۔ پانی پلانے کے لئے ایک ہاتھ میں درمیانے سائز کی بالٹی سٹینڈ سے بھر کر لانا، اُس کے اندر آب خورہ(مٹی کا بنا ہوا گملا نما گلاس) جو ہر ڈیوٹی دینے والے کو دیا جاتا تھا۔ ایک ہی گلاس کو بالٹی سے بھر کر یعنی ڈبو کر پانی پلاتے تھے۔ اب ہمارے جلسوں میں ننّھی منی پیاری پیاری بچیاں آپ کے پاس آکر پانی پلاتی ہیں تو اپنا گزرا سادہ سہانا بچپن یاد آجاتا ہے۔ کیا ہی خوبصورت زمانہ تھا۔ سب کارکنان کو دل سے دعا دیتی ہوں۔ اسی طرح نظم وضبط کی ڈیوٹی دینے والی بہنوں کے ہاتھوں میں پوسٹر دیکھ کر بہنیں خود ہی خاموش ہو جاتی ہیں اور تسبیح کرنے لگ جاتی ہیں۔ پھر ربوہ کی یادوں کی طرف آتی ہوں۔ جلسہ کے دنوں میں ہمارے گھر کے تمام کمرے خالی کر دیئے جاتے اور اُن میں کسیریا پرالی (مونجھی کے سوکھے ٹانڈے) منگوا کر ڈال دی جاتی، وہ ایسے سمجھ لیں جیسے موٹےموٹے گدیلے بن جاتے اُن پر چادریں بچھا کر کوئلوں سے سلگتی ہوئی انگیٹھیاں لے کر رات کو سب مل کر بیٹھتے اور خوب گپ شپ ہوتی۔ ساتھ میں ہماری اُمی جان کا مہمان داری کے لئے منگوائے ہوئے خشک میوہ جات بادام، اخروٹ، مونگ پھلی وغیرہ یہ سب مل کر ہم کھاتے اور یہ سب ہماری خوشیوں کو دوبالا کردیا کرتے۔
ہمارے گھر میں ہمیں یہ سمجھایا جاتا تھا کہ جلسے کے تمام پروگرام، تقاریر پوری توجہ سے سننی ہیں۔ اس لئے ہم وقت پر صبح سویرے اُٹھ کر جبکہ مَیں آخر میں رات کو سب کو گرم قہوہ یا چائے پلا کر باورچی خانہ وغیرہ کا دروازہ بند کرکے فرش پر معمولی گدیلا بچھا کر سوجاتی تھی۔ باورچی خانہ لکڑیوں سے جلنے والے چولہے کی وجہ سےگرم رہتا تھا جس سے بہت مزے کی نیند آتی تھی اور مَیں علی الصبح اذان کی آواز سے جو مسجدمبارک میں لاؤڈسپیکر پرہوتی، بیدار ہوجاتی۔ یہاں مَیں یہ بتاتی چلوں کہ چونکہ اپنی اُمی جان کی بڑی بیٹی ہونے کے ناطے اُن کا دست راست بن کر بھاگم بھاگ کام کیا کرتی تھی اس لئے سب مجھے پیار بھی بہت کرتے تھے اور خیال بھی رکھتے تھے۔ صبح ہی جلدی جلدی تیار ہو کر جلسے کی ڈیوٹیوں کے لئے نکلتے، کار یا تانگہ تو اُن دنوں ہوتے نہیں تھے پیدل ہی مزا لیتے ہوئے جاتے۔ راستہ بھر احباب کو دیکھتے ہوئے کہ لنگر سے بالٹیوں میں گرماگرم دُھواں نکلتا ہوا سالن دوسرے ہاتھ میں دسترخوان میں لپٹی ہوئی تازہ تازہ روٹیاں ہوتیں، یہ نظارے ہمیشہ یادوں میں رہتے ہیں۔ صبح کو اکثر لوگ گھر سے کھانا کھا کر ہی جلسہ گاہ پہنچتے تھے۔ لیکن ہمارے اُوپر والدین کی طرف سے یہ ذمہ داری بھی تھی کہ ڈیوٹیوں کے ساتھ ساتھ توجہ سے تقاریر بھی سننی ضروری ہیں کیونکہ کسی وقت بھی ہماری اُمی جان یا اباجان ہمارا امتحان لے سکتے ہیں کہ آج کیا تقریر ہوئی تھی۔ خواتین کی تقاریر بہت غور سے سنی جاتیں جن میں سے کچھ آج بھی یاد ہیں۔ مثلاً حضرت مہرآپا صاحبہ، چھوٹی آپا اُمّ متین صاحبہ، نصیرہ نزہت صاحبہ اور نسیم سعیدہ صاحبہ وغیرہ کی تقاریر بہت معیاری، پُراثر ہوتیں۔
ربوہ میں ایک جلسہ پر جب میری اچھی آپا مرحومہ مدیرہ مصباح تھیں اُن کی مستورات کے جلسہ میں تقریر تھی جو بہت پسند کی گئی جبکہ مَیں اُس وقت ڈیوٹی پر تھی، تقریرختم کرنے پر جب وہ سٹیج سے نیچے اُ تریں تو مَیں نے بھاگ کر اُ نہیں اپنے گلے لگا کر مبارک باد دی تو وہ بہت خوش ہوئیں اور ساتھ ہی مجھے کہا جائیں اپنی ڈیوٹی دیں گھر آکر پھر جتنا جی چاہے مل لینا۔ اسی طرح جب حضرت اباجان (مولانا ابوالعطاء جالندھری صاحبؓ مرحوم) کی تقریر ہوتی تھی تو ہم سب مہمانوں سمیت مل کر گھر واپس آکر اباجان کو مبارک باد دیتے اور چائے پیتے اور پھر اباجان دعا کرواتے۔ مجھے یہ بھی اچھی طرح یاد ہے جب جلسہ سالانہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے مولانا جلال الدین شمس صاحب اور مولانا عبدالرحمٰن خادم صاحب کے ہمرا ہ حضرت اباجان کو خالداحمدیت کے خطاب سے نوازا۔ اُس وقت مَیں اتنی سمجھ نہیں رکھتی تھی اورنہ جانتی تھی کہ اتنی بڑی خوشی کی کیا بات ہو سکتی ہے لیکن جب میں گھر آئی تو کیا دیکھتی ہوں میری بڑی بہن اچھی آپا اباجان کے گلے لگی ہوئی ہیں، رو رہی ہیں اور باربار اُن کو مبارک باد دیتی جا رہی ہیں۔ اس پر پھر مجھے سمجھ آئی کہ یہ کتنی بڑی اور مبارک بات ہوئی ہے، الحمدللہ ثم الحمدللہ۔
میری شادی جامعہ نصرت میں تھوڑا عرصہ پڑھنے کے بعد ہی ہو گئی تھی۔ اور شادی کے فوراً بعد مشرقی افریقہ چلی گئی۔ میرے شوہر کی سرکاری ملازمت تھی اور جب بھی اُنہیں رخصت ملتی ہم ربوہ ضرور جاتے، کبھی تو جلسہ دیکھ پاتے اور کبھی ویسے ہی واپس آنا پڑتا یعنی ہمارا بھی وہی حال ہوگیا تھا جیسے اسلام آباد سے باہرمختلف ممالک میں رہنے والوں کا حال ہے۔ سال بھر چھٹی جمع کرتے ہیں، اپنی پونجی بچابچا کر جمع کرتے ہیں اور تیاری کر کے چند دنوں کے لئے یہاں اپنےاپنے ٹینٹ لگا کر یا ہوٹل بُک کروا کر یا کچھ لوگ اپنے عزیزوں کو پہلے سے اطلاع کر دیتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس ٹھہریں گے۔ میزبان بھی بہت مہربان ہوتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

جماعت کی طرف سے بھی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ بیت الفتوح کے اردگرد رہائش اختیار کرنے والوں کے لئے جماعت کوچز کا بہترین انتظام کرتی ہے۔ ہمارے خدام اور اطفال جو ڈیوٹیوں پر ہوتے ہیں آپ کو خوش آمدید کرتے ہیں، سیٹوں پر بٹھاتے ہیں، پیاری پیاری نظمیں اور ترانے لگا کر دعاؤں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے قطاردرقطار بسیں حدیقۃالمہدی بروقت پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیال رکھا جاتا ہے کہ راستہ بھر آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اسی طرح واپسی پر چاک وچوبند خدام کھانے کے پیکٹ لوگوں کو دیتے ہیں، بچوں کو چاکلیٹ وغیرہ دیتے ہیں۔ یہ بہت ہی دلچسپ اور جذبوں سے بھرپور سفر ہوتا ہےجس کی مٹھاس ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ ہمارے جلسوں کا ماحول اپنے ساتھ بہت برکتیں رکھتا ہے۔ سب پیار، محبت اور خوشیاں لے کر گھروں کو لوٹتے ہیں۔ اُن کو گھر جیسی سہولت اور آرام نہ بھی مل رہا ہو پھر بھی خوش ہوتے ہیں کہ آپ نے مہمان نوازی کا حق ادا کر دیا۔ ہم بھی اپنے مہمانوں سے بہت خوش ہوتے ہیں کہ سال بھر انتظار کے بعد ملاقات ہوتی ہے اور مہمانوں کے ساتھ گزرا ہوا وقت ہمیشہ یاد رہتا ہے۔
یہ جلسہ کے حوالہ سے میری چند یادیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جلسہ کے اغراض ومقاصد سامنے رکھتے ہوئے جلسوں میں شامل ہونے، ڈیوٹیاں دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ پیارےآقا کے لئے بھی خاص طور پر دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت وسلامتی والی لمبی عمر سے نوازے۔ آمین۔

متعلقہ مضمون

  • گھریلو زندگی، اسلامی اقدار کا آئینہ تقریر جلسہ سالانہ جرمنی 2025ء

  • پروگرام 48 واں جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی 2024ء

  • جلسہ سالانہ کا ایک مقصد ’’زہد‘‘ اختیار کرنا ہے

  • جلسہ سالانہ کےمیزبانوں اور مہمانوں کے لیے زرّیں نصائح