اسلام کی پہلی صدی کے آخر میں مسلمان سخت انتشار وتفریق کا شکار ہو چکے تھے جس کے اثرات آج تک امّت مسلمہ میں نظر آتے ہیں۔ اسی دور میں مختلف مکاتب فکر نے جنم لیا جن کی مزید کئی شاخیں نکلیں اور یوں تقسیم درتقسیم کی وجہ سے مسلمان فرقوں اور مکاتب فکر کی تعداد بڑھتی گئی۔ ان تمام مکاتب فکر کی تاریخ اور ان کی فکری اور روحانی ترقی اور تنزّل کی داستان جماعت احمدیہ کے ایک بزرگ عالم دین حضرت ملک سیف الرحمٰن صاحب مرحوم نے رقم فرمائی جو ‘‘تاریخ افکار اسلامی’’ کے نام سے شائع ہوئی۔
اس کتاب کے آغاز میں امّت مسلمہ میں اختلاف، تشتّت اور افتراق کا ذکر ہے، پھر اختلاف کے آغاز اور اسباب کا ذکر کرنے کے بعد مسلمان فرقوں پر بحث کی گئی ہے۔ سب سے پہلے اہل سنّت والجماعت اور اس کی ذیلی شاخوں کا ذکر ہے اور پھر دوسرے مکاتب فکر اور فرقوں کا ذکر ہے۔ مثلاً اشاعرہ، سلفیہ، معتزلہ، صوفیاء وغیرہ۔ پھر شیعہ اور ان کے ضمنی فرقوں کا ذکر ہے مثلاً امامیہ، اثنا عشریہ، الباقریۃ، فریدیہ وغیرہ۔ اسی طرح برامکہ اور قرامطہ پر بھی بحث ہے۔ آپ نے مختلف فرقوں کا نظریاتی جائزہ پیش کرتے ہوئے جس اصول کو پیش نظر رکھا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘مختلف فرقوں کے نظریات کا تاریخی جائزہ پیش کرنے سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اس بات کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ آئندہ صفحات میں جو کچھ کسی فرقہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ حرف بحرف صحیح ہو اور کسی جگہ بھی تعصّب یا شنید یا تساہل سے کام نہ لیا جائے۔ہر فرقہ کے بارہ میں وہی کچھ لکھا جائے جسے وہ فرقہ مانتا ہے لیکن تاریخی حقیقت کے لحاظ سے یہ حتمی دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ یہ کوشش پوری طرح کامیاب بھی رہی ہے کیونکہ تاریخ مختلف ادوار میں سے گزرنے اور گردوپیش سے متاثر ہونے کی وجہ سے بڑی حد تک حجاب اکبر بھی ثابت ہوتی ہے اس لئے کسی حقیقت کے کئی پہلوؤں کا تشنۂ وضاحت رہ جانا عین ممکن ہے اور کئی واقعات کی اصلیت سیاق وسباق سے کٹ جانے کی وجہ سے مشتبہ ہو سکتی ہے۔بہرحال یہ نظریاتی جائزہ اس حسن ظن کی بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے کہ جن سابقہ بزرگوں نے اس موضوع پر لکھا وہ اپنی جلالتِ شان اور عظمتِ علم کے لحاظ سے ہر قسم کے تعصّب اور جانبداری سے پاک اور اظہارِحقیقت کے لئے بڑے، جری اور صادق القول مانے جاتے ہیں اور ان کی ثقاہت کا انکار مشکل ہے’’۔ (کتاب هذا صفحه 195)
اس کتاب میں ائمہ فقہ کا ذکر بھی تفصیل سے موجود ہے۔ اسی طرح تنقص، تقمص اور تناسخ پر بھی سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دلچسپ مناظروں اور مباحثوں کی روداد بھی بیان کی گئی ہے جہاں بعض کی کج بحثی کا علم ہوتا ہے تو یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ دلائل قاطعہ کس کے پاس تھے۔
پھر 19ویں صدی میں اٹھنے والی نئی تحریکوں، نظریات اور ان کے پس منظر کا بھی ذکر ہے۔ سرسید احمد خان کی تحریک، تحریک اتحاد عالم اسلامی، تحریک رابطہ عالم اسلامی، دیوبندی، ندوۃ العلماء لکھنؤ اور جماعت  اسلامی وغیرہ۔ کتاب کے آخر میں اس دور کے امام، حکم وعدل اور مہدی دوراں کا ذکر ہے جس کے بعد نبوت کی ضرورت اور ختم نبوت پر بحث کی گئی ہے۔ صداقت حضرت مسیح موعود کے دلائل اور آپؑ کے کارہائے نمایاں پیش کیے گئے ہیں اور آپ کی عظیم الشان پیشگوئیوں کا بھی ذکر ہےجس میں خلافت حقہ اسلامیہ کے قیام اور دائمی ہونے کی خوشخبری بھی شامل ہے اور یہ بھی کہ اب اسلام کی فتوحات اور غلبہ کا وقت شروع ہو گیا ہے یعنی ؎
اب گیا وقتِ خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن
کتاب کے آغاز میں تو مسلمان یاس وناامیدی کا شکار ہو کر کفِ افسوس ملتا ہے کہ کس طرح اس قدر جلد مسلمان اختلافات اور تفرقہ کا شکار ہو گئے مگر کتاب کے آخر میں قاری کا دل امید اور رِجا اور حمد سے بھر جاتا ہے اور خداوند قادر و توانا کا وعدہ اس کو تسلی، ہمت و استقلال ہی عطا نہیں کرتا بلکہ وہ خدائی وعدوں کو ہر روز پورے ہوتے دیکھتا ہے اور کُلَّ یَوۡمٍ ہُوَ فِیۡ شَاۡنٍ کے تحت ہر روز اس کی تجلی کو اپنی آنکھ سے مشاہدہ کرتا اور حمدوثناء کے ترانے گاتا ہے۔