احمدیہ مسلم جیورسٹس ایسو سی ایشن جرمنی کے زیرِ انتظام

رپورٹ: مکرم کولمبس خان صاحب

 

احمديہ مسلم وکلاء ايسوسي ايشن (AMJV) نے جلسہ سالانہ جرمني 2025ء کے دوسرے روز ايک مجلسِ مذاکرہ (Podium Diskussion)کا انعقاد کياجس میں اس اہم اور حسّاس سوال پر گفتگو کی گئی کہ جرمني غزہ کے حوالہ سے اپني ذمہ داري کس حد تک بين الاقوامي قانون کے اصولوں کی روشنی میں پوری کر رہا ہے؟ اس مذاکرہ کی نظامت مکرم ملک افتخار احمد صاحب ایڈووکیٹ نے کی جبکہ صدارت مکرم ڈاکٹر نوید منصورصاحب ،صدر ایسوسی ایشن (AMJV) نے کی اور اس قضیہ کا پس منظر بیان کر کے اراکین مذاکرہ کو باری باری گفتگو کا موقع فراہم کیا۔
آغاز ميں مکرم شرجيل خالد صاحب مربي سلسلہ نے تقریر کرتے ہوئے واضح کيا کہ اس موضوع پر مکالمہ کس قدر منقسم اور حسّاس ہے۔ آپ نے زور ديا کہ غزہ کے موجودہ انساني بحران کے تناظر ميں اخلاقي معيار کو نظرانداز نہيں کيا جا سکتا۔ بعدازاں گفتگو کا باقاعدہ آغاز ہوا جس ميں مختلف آراء سامنے آئيں مگر سبھي ايک ہي سوال کے گرد گھوم رہي تھيں کہ 2025ء ميں جرمن ‘‘رياستي مصلحت’’ (Staatsräson) کا مفہوم کيا ہے؟
مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب امير جماعت احمديہ جرمني نے کہا: ‘‘رياستي مصلحت ايسا لائسنس نہيں ہونا چاہيے جس کے ذريعہ بين الاقوامي قوانين کو نظرانداز کر ديا جائے’’۔ آپ کے مطابق جرمني کي ذمہ داري صرف اسرائيل تک محدود نہيں بلکہ عالمگير ہوني چاہيے۔ جو بھي ‘‘پھر کبھي نہيں’’ کو سنجيدگي سے ليتا ہے، اُسے ‘‘نيورن برگ مقدمات’’ کي جانب ديکھنا ہوگا، جہاں سے ايک ضابطہ پر مبني عالمي نظام نے جنم ليا۔
جرمن فلسطيني دوستانہ تنظيم کے سربراہ محترم Nazeh Musharbash صاحب نے بھي سخت مؤقف اختيار کيا۔ اُنہوں نے جرمني پر الزام لگايا کہ وہ صرف اسرائيلي بيانيہ کو ترجيح دے رہا ہے اور فلسطينيوں کو تنہا چھوڑ رہا ہے۔ ‘‘يہ ناقابلِ قبول ہے کہ جرمن سياست صرف ايک فريق کے دکھ کو ديکھے اور دوسرے کے دکھ کو چھپائے’’۔ اُن کے بقول اس رويہ سے جرمني کے ايک معتبر عالمي کردار کے طور پر اعتماد ميں شديد کمي آ رہي ہے۔
معروف خاتون صحافي محترمہ خولہ مريم ہيوبش صاحبہ نے اس کے داخلي پہلو پر روشني ڈالي۔ اُنہوں نے ايسي تحقيقات کا حوالہ ديا جن کے مطابق تقريباً ہر دوسرا جرمن غزہ کے متعلق ذرائع ابلاغ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ ‘‘غزہ کي جنگ نے ميڈيا اور سياست پر عوامي اعتماد کو گہرا دھچکا پہنچايا ہے۔ جب چوتھا ستون ناکام ہوتا ہے تو نہ صرف جمہوريت اور قانون کي حکمراني خطرے ميں پڑتي ہے بلکہ عالمي امن بھي متأثر ہوتا ہے’’۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے دباؤ کي طرف بھي اشارہ کيا کہ جو بھي اسرائيل کي پاليسي پر تنقيد کرتا ہے اُسے فوراً ‘‘يہود دشمني’’ کے خانے ميں ڈال ديا جاتا ہے۔ اس سے اصل مکالمہ دم توڑ ديتا ہے اورآوازِحق دب کر رہ جاتي ہے۔
ان سب سے بالکل مختلف نقطۂ نظر رِبي ڈاکٹر Walter Rothschild نے پيش کيا۔ اُنہوں نے کھل کر اپني مايوسي کا اظہار کيا: ‘‘مَيں افسردہ، صدمہ زدہ اور مايوس ہوں’’۔ ان کے خيال ميں يہ ‘‘سادہ لوحي اور جہالت’’ ہے کہ کوئي يہ سمجھے کہ شرقِ اوسط ميں کبھي حقيقي امن قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر مکمل امن نہیں ہوسکتا تو کم ازکم ہدف استحکام ہونا چاہيے’’۔ ساتھ ہي انہوں نے خبردار کيا کہ اسرائيل ہي وہ واحد ملک ہے جو مغربي اقدار کے وجودي خطرے کو سنجيدگي سے ليتا ہے اور اس کا دفاع کرتا ہے۔ لہٰذا جرمني کو اسرائيل کي حمايت جاري رکھني چاہيے۔ جہاں تک اسرائيل کي پاليسي پر تنقيد کا سوال ہے تو اسے يہوددشمني نہيں سمجھنا چاہيے اور يہي ايک حد ہے جو جرمني ميں متنازع ہوتي جا رہي ہے۔
اس مباحثہ نے يہ واضح کيا کہ جرمن سياست شرقِ اوسط کے تنازع ميں بنيادي مخمصے کو حل نہيں کر سکتي۔ اسرائيل کے حوالے سے تاريخي ذمہ داري اور بين الاقوامي قانون کو لاگو کرنے کے تقاضے کے درميان ايک تناؤ موجود ہے اور يہ تناؤ جرمن معاشرے ميں بھي شدت سے محسوس ہو رہا ہے۔ جرمني کے بہت سے مسلمانوں کے نزديک رياستي مصلحت اب ايک ‘‘نئي اسلام پاليسي’’ کي مانند دکھائي ديتي ہے جس سے بداعتمادي بڑھ رہي ہے۔ اگرچہ مباحثہ ميں آراء بظاہر ايک دوسرے سے متصادم تھيں، مگر سب اس بات پر متفق تھے کہ جرمني کو اِن مشکل سوالات کا سامنا کرنا ہوگا: ہم تاريخ سے کيا سبق ليتے ہيں؟ کيا قانون صرف کمزوروں کے ليے ہے يا سب کے ليے؟ شرقِ اوسط کے گہرے زخموں کے پيشِ نظر کس طرح ايک ضابطہ پر مبني نظام پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟یہ درست ہے کہ مذاکرہ میں کوئي حتمي اتفاقِ رائے پيدا نہيں ہوا مگر ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کي کوشش ہي اس کي اصل غرض تھی۔

متعلقہ مضمون

  • جلسہ ہائے سيرت النبیﷺ

  • گھریلو زندگی، اسلامی اقدار کا آئینہ تقریر جلسہ سالانہ جرمنی 2025ء

  • جلسہ ہائے سیرت النبیﷺ کا آغاز

  • پروگرام 48 واں جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی 2024ء