مکرم مولانا لئیق احمد طاہر صاحب مبلغ سلسلہ انگلستان

 

آنحضرتﷺ کی ذات پرایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ نعوذباللہ آپؐ عورتوں کے دلدادہ تھے۔ اس اعتراض کے جواب سے پہلے عرب معاشرہ اور اسلام سے پہلےکے مذاہب میں شادیوں کے رواج سے متعلق جائزہ لیتے ہیں۔ اسلام سے قبل عرب معاشرہ میں بیویاں کرنے کی کوئی حد بسط نہ تھی۔ بدکاری اور زناکاری عروج پر تھی۔ عرب اس پر ندامت تو دور کی بات ہے ان افعال قبیحہ پر فخر کرتے اور اپنے اشعار کے ذریعہ اشاعت فحشاء پر ناز کرتے تھے۔ شراب کا استعمال عام تھا اور پھر مدہوشی میں مخالفوں کی بہو بیٹیوں کے بارہ میں مزے لےلے کر فخریہ قصے بیان کرتے تھے۔ لونڈیاں کثرت سے رکھتے اور ان کے ذریعہ بدکاری کی آمدنی کو اچھا سمجھتے تھے۔ جو عورت بھی جنگ میں پکڑی جاتی اس سے یہی پیشہ کرواتے تھے۔ جس بیوہ عورت پر متوفیٰ شوہر کا قریبی رشتہ دار اپنی چادر ڈال دیتا وہی زبردستی اس کی بیوی بنا دی جاتی۔ سوتیلے بیٹے اس طریق پر سوتیلی ماؤں پر قبضہ کر لیتے تھے۔ عورتیں بےحجاب اپنے جسم کے مخفی حصوں کی نمائش کرتیں۔ جو خاندان شریف سمجھے جاتے وہ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے اور اس پر فخر کرتے کہ گویا یہ ان کی اعلیٰ شرافت کا نشان تھا۔ (رحمۃ للعالمین حصہ سوئم صفحہ 625 و 626)
قاضی محمد سلیمان سلمان منصوری لکھتے ہیں:
معترضین کے پاس اس کے خلاف دلیل صرف یہ ہے کہ اسلام نے ایک سے زیادہ عورتوں کو بھی بیوی بنا لینے کی اجازت دی ہے۔ مگر غور تو کرو کہ حضرت داؤد کو خدا کا اکلوتا بیٹا کہنے والے اور اس کی سو بیویوں اور سلیمان کی ایک ہزار بیویوں پر، ابراہیم کو خلیل الرحمٰن ماننے والے اس کی بیویوں اور لونڈیوں پر،کرشن جی مہاراج کو اوتار ماننے والے ان کی سولہ ہزار ایک سو آٹھ سکھیوں پر اور ان کو ریفارمر اعظم ماننے والے زمانہ حال کے لیڈر، ان کی آٹھ مہارانیوں پر کوئی اعتراض زبان سے نہیں نکالتے، تو پھر ان کا کیا حق ہے کہ وہ اسلام پر ایک سے زائد بیوی کرنے پر اعتراض کریں۔ ہم نے جن محترم ہستیوں کے نام لیے ا ن کے اپنے مذہب میں ایک سے زائد بیوی کرنے کے لیے کوئی ایسی شرط موجود نہیں ، جس کا فقدان ان کو ایک سے زیادہ بیوی کرنے کے لیے روک بن سکےمگر اسلام میں شرطِ عدل موجود ہے اور اس شرط کے فقدان پر (بلکہ صرف فقدان ہی پر نہیں) احتمالِ فقدان کی حالت پر بھی ارشاد موجود ہے، کیا کوئی مذہب ہے جو اپنی کتابِ پاک میں فَوَاحِدَۃ کا ہم معنی لفظ نکال کر دکھا دے، کوئی مذہب ہے جو مسیح یا موسیٰ یا کرشن رام چندر کے منہ سے نکلی ہوئی بات فَوَاحِدَۃ کے ہم معنی ثابت کر دے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں، تب اس کو اقرار کرنا چاہیے کہ یہ بھی اسلام ہی کی خصوصیات میں سے ہے اور ایک بیوی والے جس قانون پر یورپ کو فخر ہے، وہ بھی قرآن مجید ہی کے ایک حکم کا خلاصہ اور ناقص خلاصہ ہے۔
(رحمۃ للعالمین حصہ سوئم صفحہ 891)
حضور نبی اکرمﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات میں سے صرف حضرت عائشہؓ اور حضرت ماریہ قبطیہؓ کنواری تھیں، باقی سب کی سب بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں: ‘‘مشہور مستشرق مارگولیس سڈنی (Margolius Sidney) نے اپنی کتاب ‘‘محمد’’ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ بیشتر یورپین مصنفین کی نظر میں نبی پاکﷺ کی شادیاں نفسانی خواہشات پر مبنی تھیں لیکن یہ اعتراض سراسر غلط اور بےبنیاد ہے۔ آپ کی اکثر شادیاں عرب کے قبائل کو اسلام سے قریب لانے کے لیے، اپنے بعض اصحاب کی دلجوئی کے لیے اور بعض بےآسرا خواتین کی سرپرستی کے لیے تھیں اور بعض شادیاں اولادِ نرینہ کے حصول کے لیے تھیں’’۔ (سیرت خاتم النبیین صفحہ 445 تا 446)
عرب جیسےآزاد معاشرہ میں جہاں شادیاں چھوٹی عمر میں کر دی جاتی تھیں، حبیب کبریاﷺ نے ابتدائی 25 سال کمال تقویٰ کے ساتھ تجرد کی حالت میں گذارے۔ آپﷺ سارے عرب میں مردانہ حسن کا شاہکار سمجھے جاتے تھے۔ شادی کی تو ایک ایسی خاتون کے ساتھ، جو حضور سے عمر میں نہ صرف 15 سال بڑی تھیں، بلکہ پہلے 25 سے 50 سال تک کی عمر کا زمانہ نہایت وفا کے ساتھ گذارا۔ جب حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی تو وہ 65 برس کی ہو چکی تھیں اور نبی پاکﷺ اپنی وفات تک ہمیشہ حضرت خدیجہ کی محبّت اور قربانیوں کا ذکر فرماتے رہے۔ کیا یہ کسی نفس پرست، عورتوں کے دلدادہ وجود کی حالت ہے یا ایک بےمثال وفاشعار، عارف ربّانی اور عشقِ خدا میں مخمور وجود کی سیرتِ طیبہ کا قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ آنحضورﷺ کی دوسری شادی حضرت سودہؓ سے ہوئی۔ حضرت سودہؓ بنت زمعہ بن قیس حضور کے ایک خادم حضرت سکران بن عمرو کی بیوہ تھیں۔ میاں بیوی نے کفار کے انتہائی مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کی جہاں سکران بن عمرو فوت ہوگئے۔ حضرت سودہؓ کی عمر 50 سال کی ہو چکی تھی، گویا شادی کی عمر سے گذر چکی تھیں، مسلمانوں کی انتہائی تنگی کے حالات تھے۔ حضرت سودہؓ بےسہارا ہوچکی تھیں، ان کے سہارے کے لیے نبی پاکﷺ نے ان سے شادی کی۔ آنحضورؐ کی تیسری شادی حضرت عائشہؓ سے ہوئی۔ حضرت عائشہؓ آنحضورﷺ کی وفات کے بعد 48 سال تک زندہ رہیں اور ہمیشہ رسول کریمﷺ کی محبّت، احسان اور عبادات کا تذکرہ کرتی رہیں اور کبھی بھی حرفِ شکایت آپ کے منہ پر نہ آیا۔ نبی پاکﷺ کی اکثر شادیاں 5 ہجری تا 9 ہجری کی درمیانی مدت میں ہوئیں جبکہ آپؐ زندگی کے 55 سال گذار چکے تھے۔ آپﷺ فرماتے تھے : مَالِیَ فِی النِّسَاءِ حَاجَۃٌ کہ مجھے اپنی ذات کے لیے عورتوں کی کوئی حاجت نہیں۔ اس کے باوجود آپ کا مزید شادیاں کرنا ضرور کوئی مصالح رکھتا ہے جن میں سے چند ایک کا ذکر درج ذیل ہے۔
حضرت صفیہؓ کے نکاح سے قبل جس قدر لڑائیاں مسلمانوں کے ساتھ کفار نے کیں ان سب میں یہود مخفی طور پر یا اعلانیہ شریک تھے، مگر حضرت صفیہؓ کے ساتھ شادی کے بعد کسی ایک لڑائی میں یہود مسلمانوں کے خلاف شریک نہیں ہوئے۔ خود غور کیجیئے کہ یہ شادی قومی مصالح کے لیے کس قدر ضروری تھی۔ حضرت صفیہؓ سے شادی کے وقت نبی پاک ﷺ 59 برس کے تھے۔
حضرت امّ حبیبہؓ ابوسفیان کی دختر تھیں۔ آپ عبداللہ بن حجشؓ کی بیوہ تھیں۔ اس شادی سے قبل ابوسفیان غزوہ اُحد، حمراءالاسد، بدرالاخریٰ اور غزوہ احزاب میں لشکرِ کفار کی کمان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن اس شادی کے بعد وہ کسی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف فوج کشی کرتے ہوئے نظر نہیں آتے اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد خود بھی اسلام کے جھنڈے تلے آکر پناہ لیتے ہیں، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ نکاح غیر ضروری تھا؟
حضرت جویریہؓ بنت حارث بن ابی ضرار کی پہلی شادی مسافع بن صفوان سے ہو چکی تھی۔ ان کا باپ مشہور رہزن تھا اور مسلمانوں سے دلی عداوت رکھتا تھا۔بنومصطلق کا مشہور، طاقتور اور جنگجو قبیلہ، جو متعدد قبائل پر مشتمل تھا، ہمیشہ اس کے اشارہ پر ہر جنگ میں مسلمانو ں کے خلاف برسرپیکار رہا۔ لیکن جونہی حضور نبی پاکﷺ نے حضرت جویریہؓ کو آزاد کر کے ان کی اپنی رضامندی سے ان کے ساتھ شادی کی، تمام قبیلہ سب دشمنیاں بھول گیا۔ قزاقی چھوڑ دی اور مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شریک نہ ہوا۔ انصاف سے بتائیں کہ یہ نکاح کس قدر مفید ثابت ہوا۔آنحضورﷺ کی عمر اس وقت 57 سال تھی۔
حضرت میمونہ ؓکی ایک بہن سردارِ نجد کے گھر میں تھیں۔ اہلِ نجد ہی وہ ظالم تھے جنہوں نے دھوکے سے 70 واعظانِ دین کو اپنے ملک میں لےجا کر شہید کر دیا تھا، کئی بار انہوں نے نقضِ امن اور فسادانگیزی کی لیکن حضرت میمونہؓ کے ساتھ شادی کے بعد ملک نجد میں صلح، امن اور اسلام پھیلانے کے بہترین مواقع پیدا ہوگئے۔ حضرت میمونہؓ کے ساتھ آنحضورﷺ نے 59 برس کی عمر میں شادی کی۔ حضرت میمونہؓ اس وقت 36 سال کی تھیں اور حضورؐ کی زوجیت میں صرف چار سال تک رہیں۔
حضرت زینب بنت جحشؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے نکاح خالص اسلامی اغراض اور مصالحِ دینی پر مبنی تھے۔ حضرت زینبؓ کے نکاح کے ساتھ عربوں کی متبنیٰ بنانے کی رسم کا طلسم پاش پاش ہو گیا۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے ساتھ نکاح کے نتیجہ میں حفاظتِ قرآن کریم اور تعلیمِ نسواں کے قومی مقاصد حاصل ہوئے۔ اسی طرح دونوں امہات المؤمنین کو خلافت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمر فاروق ؓکے دوران نبی پاک ﷺ کی تربیت کے نتیجہ میں عظیم الشان خدمات کی توفیق عطا ہوئی۔
(رحمۃ اللعالمین حصہ دوئم صفحہ 357 و 358)
مختصر یہ کہ نبی پاک ﷺ کی سب شادیاں بےشمار قومی اور دینی مصالح کے لیے تھیں۔ سیدنا حضرت مسیح موعودؑ تعدّدِ ازدواج پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
‘‘شریعت حقّہ نے اس کو ضرورت کے واسطے جائز رکھا ہے۔ ایک لائق آدمی کی بیوی اگر اس قسم کی ہے کہ اس سے اولاد نہیں ہو سکتی تو وہ کیوں بےاولاد رہے اور اپنے آپ کو بھی عقیم بنا لے۔ ایک عمدہ گھوڑا ہوتا ہے تو اس کی نسل بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، انسان کی نسل کو کیوں ضائع کیا جاوے۔ پادری لوگ دوسری شادی کو زناکاری قرار دیتے ہیں تو پھر انبیاء کی نسبت کیا کہتے ہیں۔ حضر ت سلیمانؑ کی، کہتے ہیں کئی سو بیویاں تھیں اور ایسا ہی حضرت داؤدؑ کی تھیں۔ اگر نعوذباللہ عیسائیوں کے قول کے مطابق ایک سے زیادہ نکاح سب زنا ہیں تو حضرت داؤدؑ کی اولاد سے ہی ان کا خدا بھی پیدا ہوا ہے تب تو یہ نسخہ اچھا ہے اور بڑی برکت والا طریق ہے’’۔ (ملفوظات جلد دہم صفحہ 197،198)
حضرت مسیح موعودؑ نے ایک احمدی کے بعض سوالات کے جوابات دیتے ہوئے تعدّدازدواج سے متعلق سیر حاصل بحث فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
1۔ اگر انسان کو پورا علم ہو کہ عدم مساوات سے خداتعالیٰ کس قدر ناراض ہو گا تو شاید وہ ساری عمر رنڈوا رہنے کو ترجیح دے۔
2۔ اگر انسان اپنے نفس کا میلان اور غلبہ شہوات کی طرف دیکھے اور اس کی نظر باربار خراب ہوتی ہو تو زنا سے بچنے کے لیے دوسری شادی کرلے لیکن پہلی بیوی کے حقوق تلف نہ کرے کیونکہ جوانی کا بہت سا حصہ اس نے اس کے ساتھ گذارا ہوتا ہے اور ایک گہرا تعلق خاوند کا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
3۔ اگر مرد کو دوسری شادی کی ضرورت ہو لیکن وہ یہ دیکھے کہ اس سے پہلی بیوی کو سخت صدمہ ہوگا اور حد درجہ کی اس کی دل شکنی ہوگی تو وہ قربانی دے اور ایک ہی بیوی کو کافی سمجھے اور دوسری شادی نہ کرے بشرطیکہ اسے یہ ڈر نہ ہو کہ اس وجہ سے وہ معصیت میں مبتلا ہو کر کسی جائز شرعی ضرورت کا خون نہیں کرے گا۔
4۔ آنحضرتﷺ کی کئی بیویاں تھیں مگر اس کے باوجود آپ ساری ساری رات خداتعالیٰ کی عبادت میں گذارتے تھے۔ ایک بار آپﷺ کی باری حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ہاں تھی، کچھ حصہ رات کا گذر گیا تو حضرت عائشہؓ کی آنکھ کھلی اور دیکھا کہ آپﷺ وہاں موجود نہیں ہیں۔ انہیں شبہ ہوا کہ کہیں کسی دوسری بیوی کے ہاں ہوں گے۔ انہوں نے حضورﷺ کو ہر گھر میں تلاش کیا۔ بالآخر دیکھا کہ وہ قبرستان میں سجدہ کی حالت میں رو رہے ہیں۔ اب دیکھیں! آپؐ زندہ اور چہیتی بیوی کو چھوڑ کر مُردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپ کی بیویاں حظِّ نفس یا اتباع شہوت کی بنا پر ہو سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔
5۔ آخری نصیحت ہماری یہی ہے کہ اسلام کو اپنی عیاشیوں کے لیے سِپر نہ بناؤ کہ آج ایک حسین عورت نظر آئی تو اسے کر لیا اور کل کوئی اور نظر آئی تو اسے کر لیا۔ اگر صحابہ کرام عورتیں کرنے والے اور انہیں میں مصروف رہنے والے ہوتے تو اپنے سر جنگوں میں کیوں کٹواتے۔ جو شب و روز عیش و عشرت میں غرق رہتا ہے وہ کب ایسا دل لا سکتا ہے۔
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 225 تا 231، ایڈیشن 2022ء)
تاریخِ عالم کھنگال کر دیکھ لیجیئے، تاریخِ انبیاء کا مطالعہ کر لیجیئے، آپ کو حبیب کبریاء، سرورِ کائنات، فخرِ دو عالمﷺ جیسی نظیریں کہیں نظر نہ آئیں گی۔ واقعی آپ کون و مکان میں ایک ایسا گوہرِ نایاب تھے جو ہر اعتبار سے بےمثل، ہر کمال میں یگانہ اور یکتائے روزگار تھے۔ سیدنا حضرت مسیح موعود نے آپﷺ کے عشق میں کیا خوب فرمایا ہے:
دلبرا! مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی
آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے

متعلقہ مضمون

  • سیرت حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ

  • حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی عید

  • سیرت حضرت عثمان

  • ِلیا ظلم کا عَفو سے انتقام